ایران سے مذاکرات: امریکا کی دہری پالیسی کتنی خطرناک؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران اور امریکا کے مابین کشیدہ تعلقات ایک بار پھر ایک ایسے نازک موڑ پر آن کھڑے ہوئے ہیں جہاں سفارت کاری اور عسکری دباؤ کی متضاد لہریں بیک وقت پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں، اور یہ تیسرا دورِ مذاکرات اگرچہ جنیوا میں شروع ہونے جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق اور بیانات کی شدت اس امر کی غمازی کر رہی ہے کہ امید اور خدشے کی یہ کشمکش کسی بھی لمحے ایک خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔

اور اسی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک اور عالمی معیشت دم سادھے بیٹھی ہے۔ بظاہر دونوں فریق مذاکرات کی میز پر موجود ہیں، مگر واضح طور پر جاری عسکری تیاریوں اور دھمکی آمیز بیانات نے اس عمل کو غیر یقینی کے دبیز سائے میں ڈھانپ رکھا ہے جبکہ دھونس اور دھمکیوں کے سائے میں کی جانے والی ڈپلومیسی کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے، اس کا اندازہ جنیوا کی پرکیف فضاؤں میں سورج غروب ہونے سے پہلے ہوجائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ امریکا نے گزشتہ برس ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر “تباہ و برباد” کر دیا تھا تاکہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں کے بعد ایران کو واضح تنبیہ کر دی گئی تھی کہ وہ اپنے ہتھیاروں کے پروگرام، خصوصاً جوہری سرگرمیوں کی بحالی کی کوئی کوشش نہ کرے، مگر ان کے بقول تہران دوبارہ انہی “مذموم عزائم” کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ مؤقف نہ صرف سخت لب و لہجے کا عکاس تھا بلکہ اس میں ممکنہ فوجی کارروائی  کی دھمکی بھی نمایاں طور پر موجود تھی۔

تاہم اسی بیانئے کے اندر ایک نمایاں تضاد بھی سامنے آیا جب امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ ایران “صرف ایک ہفتے کی دوری” پر ہے کہ وہ صنعتی معیار کے بم سازی مواد تک رسائی حاصل کر لے۔ اگر امریکی حملوں نے واقعی ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا تھا تو پھر اتنے قلیل عرصے میں اس سطح تک پہنچ جانا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ماہرین بھی اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کر چکے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے یا امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے بھی گزشتہ برس کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی عملی دوڑ میں شامل تھا۔

اسی دوران امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ جوہری  مذاکرات کا تیسرا دور جنیوا میں ہونے جا رہا ہے جس میں اکابرین کی جانب سے نمایاں مطالبہ میزائلز کی حد بندی  اور پراکسیز کے خاتمے کا ہوگا۔ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں جو تہران سے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی ٹیم کی سربراہی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے پاس ہے۔ عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران “منصفانہ اور متوازن معاہدے” کے حصول کے لیے پُرعزم ہے اور وہ کم سے کم وقت میں نتیجہ خیز پیش رفت چاہتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ تہران اپنی انتہائی افزودہ یورینیم کی موجودہ ذخیرہ اندوزی کو کم کرنے کی تجویز پیش کر سکتا ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ اس کا مقصد جوہری ہتھیار سازی نہیں بلکہ سویلین مقاصد ہیں اور جے سی پی اے او سے بھی مماثلت رکھتا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیح سفارت کاری کے ذریعے اختلافات کا حل ہے، مگر انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو “برے نتائج” سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے 19 فروری کو تہران کو تقریباً 10 سے 15 دن کی مہلت دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ان کا یہ کہنا کہ “ہم نے وہ خفیہ الفاظ نہیں سنے کہ ہم کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے” دراصل امریکی عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جس کے پیچھے اسرائیلی لابی زوروشور سے متحرک ہے۔ مزید برآں انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو مستقبل قریب میں امریکی سرزمین تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران سڑک کنارے بم حملوں میں ملوث رہا جس میں امریکی اہلکار اور شہری ہلاک ہوئے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اگرچہ سابقہ مذاکراتی ادوار کو “حوصلہ افزا اشاروں” کا حامل قرار دیا، مگر انہوں نے یہ تنبیہ بھی کی کہ تہران ہر ممکنہ منظرنامے کے لیے تیار ہے۔ ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن اور سویلین نوعیت کا ہے، اور وہ اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایران کی پالیسی روزِ اول سے یہی رہی ہے کہ جوہری افزودگی کے دائرہ کار، نگرانی کے طریقہ کار اور شفافیت پر بات چیت ممکن ہے، لیکن دفاعی خودمختاری اور علاقائی اثر و رسوخ پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسرائیل کی  منشا اور خواہش کے سبب امریکا کی دوہری حکمتِ عملی واضح ہوتی ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی میز سجائی جاتی ہے، دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سفارتی بیانات میں لچک اور عسکری تیاریوں میں سختی کا یہ امتزاج خطے میں جنگی محاذ آرائی کے خدشات کو بڑھا رہا ہے۔ ماضی میں ہم یہ پیش گوئی کر چکے ہیں کہ ایران اور امریکا کے مابین براہِ راست جنگ کے امکانات 70 فیصد جبکہ جنگ نہ ہونے کے امکانات 30 فیصد تھے، مگر موجودہ بیانات، ڈیڈ لائنز اور فوجی نقل و حرکت کو دیکھتے ہوئے یہ شرح بتدریج تبدیل ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔

اگر خدانخواستہ امریکا ایران کو نشانہ بناتا ہے تو عین ممکن ہے کہ یہ محاذ آرائی محدود نوعیت کی ہو گی، چند روز یا چند ہفتوں پر محیط، مگر اس کے اثرات نہایت وسیع اور تباہ کن ہوں گے۔ خلیج میں تیل کی رسد متاثر ہوگی، عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھے گی، توانائی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی اور پہلے سے معاشی دباؤ کا شکار عالمی معیشت ایک نئی ہلچل کا سامنا کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ اور اسرائیل، لبنان، عراق اور خلیجی ریاستوں کی شمولیت کا خطرہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اور گزشتہ مرتبہ جب ایران  نے قطر کی امریکی ائیربیس پر حملہ کیا، اس کی طرح ڈپلومیٹک مذاکرات اور خاموش ایگریمنٹ کے بعد ایسا حملہ امریکا کے لمیٹڈ اٹیک کے بعد ایران دوبارہ کرسکتا ہے تاکہ اپنی قوم کی عزت و تکریم اور وقار کو برقرار رکھ سکے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ایک راستہ مل جاے کہ وہ اپنی فتح کا اعلان کرسکے لیکن اس کے امکانات میں کمی ہوتی جارہی ہے کیونکہ ٹرمپ اور انتظامیہ نے اپنے آپ کو ا س نہج پر پہنچا دیا کہ جہاں سے واپسی ان کیلئے ناممکن ہوتی جارہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے اور طاقت کے مظاہرے کے بجائے سفارتی عمل کو حقیقی معنوں میں موقع دے۔ اسی طرح ایران کو بھی شفافیت اور اعتماد سازی کے ایسے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے جو عالمی برادری کے خدشات کو کم کر سکیں۔ بصورتِ دیگر یہ تصادم نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ خود مغربی دنیا کو بھی معاشی اور تزویراتی عدم استحکام کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان اور ختم کرنا مشکل ہوتا ہے، اور اس بار بھی اگر عقل و تدبر نے جذبات پر قابو نہ پایا تو اس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Related Posts