امریکی فوج کا صدر ٹرمپ کا حکم ماننے سے انکار! ایران پر حملے کیلئے مصنوعی ذہانت کا استعمال

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکہ میں فوجی حکمتِ عملی میں مصنوعی ذہانت اے آئی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں امریکی فوج نے ایران پر فضائی کارروائی کے دوران سان فرانسسکو کی اسٹارٹ اپ کمپنی Anthropic کے تیار کردہ کلاؤڈ بیسڈ اے آئی ٹولز استعمال کیے۔

اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل وفاقی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے باز رہیں مگر یو ایس سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف فضائی حملوں میں انٹیلیجنس ڈیٹا کے تجزیے، اہداف کی نشاندہی اور جنگی منظرناموں کی مشق کے لیے AI کلاؤڈ کا استعمال جاری رکھا۔

صدر ٹرمپ نے پابندی کا حکم اس لیے دیا کیونکہ کمپنی نے پینٹاگون کو اپنے اے آئی ماڈلز کے بھرپور فوجی استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا جس کے نتیجے میں اس ٹیکنالوجی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

Anthropic کے AI ٹولز پہلے بھی حساس فوجی آپریشنز میں استعمال ہو چکے ہیں جن میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے خلاف کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ کمپنی نے پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ محدود استعمال پر مکمل پابندی غیر قانونی ہو گی۔ دفاعی حکام اب کلاؤڈ کے متبادل AI سسٹمز پر منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مکمل تبدیلی میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔

AI ماڈل Claude کا کردار

امریکی فوج نے Claude AI کو ایران کے خلاف فضائی حملوں میں استعمال کیا جس میں ڈیٹا کے تجزیے، اہداف کی نشاندہی اور جنگی منظرناموں کی مشق شامل تھیں۔ اس AI ماڈل کو مکمل خودکار ہتھیار نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ فوجی حکمتِ عملی میں انٹیلیجنس تجزیہ اور منصوبہ بندی میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

پابندی کے باوجود استعمال

صدر ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ہی وفاقی اداروں کو Claude AI کے استعمال سے منع کیا تاہم فوج نے اس ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رکھا کیونکہ یہ پہلے سے فوجی سسٹمز میں مربوط تھی اور فوری متبادل دستیاب نہیں تھا۔

پس منظر: بحران کیوں کھڑا ہوا؟

Anthropic نے سخت حفاظتی اصول مقرر کیے اور اپنی AI کو غیر انسانی کنٹرول والے ہتھیار یا بڑے پیمانے پر نگرانی میں استعمال کی اجازت نہیں دی۔

پینٹاگون اور حکومت کے درمیان اختلافات موجود تھے کہ کب اور کیسے AI فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کمپنی کو سیکیورٹی رسک قرار دے کر اس کے ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی لگائی۔

امریکا نے پابندی کے باوجود فوج نے ٹیکنالوجی استعمال جاری رکھی جو پالیسی اور فوجی ضروریات کے درمیان تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ واقعہ مصنوعی ذہانت، قومی سلامتی، اخلاقیات اور جنگی حکمتِ عملی کے شعبوں میں مزید سوالات پیدا کر رہا ہے۔

Related Posts