امریکا نے گوانتاموبے جیل میں قید دو پاکستانی بھائیوں کو 20 سال بعد رہا کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع نے گوانتاناموبے جیل میں قید دو پاکستانی بھائی عبدالربانی اور محمد ربانی کو20 سال بعد رہا کرنے کا اعلان کردیا، جس کے بعد جیل میں قید پاکستانیوں کی مجموعی تعداد 32 ہوگئی۔

پینٹاگون کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ محکمہ دفاع نے آج عبد الربانی اور محمد ربانی کو گوانتاناموبے جیل سے رہا کرنے کا اعلان کیا ہے، ربانی برادران 20 سال امریکی حراست میں ہیں اوراُن پر کبھی کوئی فرد جرم عائد نہیں کیا گیا۔

نیویارک ٹائمز نے پاکستانی قیدیوں کے حوالے سے بتایا کہ انھیں نائن الیون کے بعد دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انھیں افغانستان سے کیوبا میں گوانتاموبے کے ساحل پر واقع جیل میں پہنچایا گیا تھا، اس سے قبل انھیں افغانستان میں سی آئی اے کی بلیک لسٹ سائٹ میں ڈیرھ سال تک رکھا گیا، امریکی انٹیلی جنس کی فائلوں میں اِن بھائیوں کو پاکستانی شہری بتایا گیا جن کی پیدائش سعودی عرب کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

روسی حملے کو ایک سال مکمل، یوکرین نے خصوصی نوٹ جاری کردیا

پینٹاگون کے مطابق جیل میں قید بقیہ 32 قیدیوں میں سے 18 منتقلی کے اہل ہیں، 12 نظرثانی یا فوجی کمیشن کی کارروائی کے تحت ہیں اور دو کو سزاسنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رہا ہونے والے ان دونوں بھائیوں کو ستمبر 2002 میں کراچی سے پاکستان کی سیکورٹی سروسز نے پکڑا تھا، وہ تقریباََ 550 دن تک افغانستان میں سی آئی اے کے زیرِ انتظام حراستی مقام پر رہے جس کے بعد 2004 میں گوانتا موبے کی جیل میں پہنچے، انھیں 2021 میں منتقلی کی منظوری دی گئی تھی۔

یہاں پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گوانتاموبے جیل کو 2002 میں امریکی صدر جارج بش نے نائن الیون حملوں کے بعد دہشترگردی کے مشتبہ افراد کو رکھنے کیلئے قائم کیا تھا، یہ جیل قیدیوں کو سخت اذیت دینے کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور اسی جیل کی وجہ دنیا کو انسانی حقوق کا درس دینے والے امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

Related Posts