ملکی معیشت غیر مستحکم، روپے کی قدر میں کمی، ڈالر اور کتنا مہنگا ہوگا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال نے شاہین کے مقابلے میں کرگس یعنی گدھ کی کبھی تعریف نہیں کی بلکہ یہ فرمایا کہ کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور۔ یہ ایک طرح سے شاہین کی تعریف ہے کہ وہ مردار نہیں کھاتا۔

کچھ ایسی ہی صورتحال ملکی معیشت کے ساتھ درپیش ہے۔ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ پاکستان کے اردگرد موقع پرستوں، منافع خوروں، مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داروں اور اپنا پیسہ ڈالر میں منتقل کرکے راتوں رات ارب پتی بننے کا خواب دیکھنے والوں نے گھیرا ڈال لیا ہے اور اب گدھ کی طرح نوچ نوچ کر عوام کو کھا رہے ہیں۔

بلدیاتی انتخابات اور ڈالر کی قیمت

گزشتہ روز پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں حکمراں سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کی زیادہ تر حلقوں میں شکست کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک بار پھر بھونچال آگیا ہے جس کا فائدہ مفاد پرست عناصر اٹھا رہے ہیں۔ ڈالر کی قیمت آج 222 روپے سے بھی تجاوز کر گئی۔

بظاہر ڈالر کی قیمت کا بلدیاتی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں تاہم ملک کی سیاسی صورتحال میں غیر یقینی کیفیت کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر مرتب ہوتا ہے اور بے یقینی کی کیفیت ہی سرمایہ کاروں کو حصص خریدنے کی بجائے بیچنے پر مجبور کردیتی ہے۔

منگل کے روز کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی ڈالر کی قدر میں اضافہ نوٹ کیا گیا جبکہ ڈالر ایک بار پھر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 222 روپے سے زائد کا ہوگیا۔

گزشتہ روز ڈالر کی قیمت 215روپے 20 پیسے تھی، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو 24 گھنٹوں کے دوران ڈالر کی قدر میں 6 روپے 90 پیسے کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ڈالر222.10روپے کا ہوگیا۔

ملکی معیشت پر اثرات

پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک کو زیادہ تر اپنی درآمدات و برآمدات کے معاملات دیکھتے ہوئے ڈالر کی قیمت مدِ نظر رکھنی پڑتی ہے۔ اگر ڈالر کی قیمت مستحکم رہے تو بہتر، ورنہ کاروباری برادری کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ کے اختتام تک پاکستان پر قرض کا تخمینہ 44 اعشاریہ 4 ٹریلین ڈالر لگایا گیا تھا۔اس حساب سے ڈالر کی قیمت میں 1 روپے کے بھی اضافے سے پاکستان کو 44 اعشاریہ 4ٹریلین روپے مزید ادا کرنے پڑیں گے، کیونکہ یہ بات تو پہلے ہی واضح ہے کہ پاکستان کے پاس اتنی رقم موجود نہیں، کم از کم ڈالرز میں تو بالکل نہیں۔

زرِ مبادلہ کی خراب صورتحال 

مرکزی بینک کی جانب سے 2 ارب 90 کروڑ ڈالر کے اخراج کی اطلاع اپریل کے دوران سامنے آئی۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ چینی قرض کی بھاری ادائیگیوں اور معمول کی قرض ادائیگیوں کے باعث 25 مارچ تک زرِ مبادلہ کے ذخائر 12 ارب 4کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک کم ہوئے۔

اگست 2021 کے دران زرِ مبادلہ کے ذخائر 20 ارب 7 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز تھے جو 8 ارب 2 کروڑ 60لاکھ ڈالر کمی کے بعد 12 ارب 4کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہ گئے۔ یہ اکتوبر 2020 کے بعد سے کم ترین رقم ہے۔ 

اسٹیٹ بینک کے اقدامات 

آج 19 جولائی 2022 کے روز یہ خبر سامنے آئی کہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کی خراب صورتحال کے مدِ نظر اسٹیٹ بینک نے ڈالر کا انخلاء روکنے کے اقدامات شروع کردئیے۔

ایک ڈالر سے بھی کم کی درآمدات کلیئرنس کی مد میں روکی جانے لگیں جس سے ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے میں تو شاید مدد مل جائے، تاہم بہت سی فیکٹریاں بند اور ان پر جرمانے عائد ہونے کا خدشہ ہے۔

ترسیلاتِ زر 

جون 2022 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 2 ارب 76 کروڑ ڈالر کی ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجیں جن کا حجم ماہانہ بنیادوں پر 18.4 جبکہ سالانہ کے حساب سے 1.7 فیصد زائد رہا۔ 

ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر 

آج سے کم و بیش 4سال قبل یعنی 2018 میں عمران خان کے اقتدار سنبھالنے سے لے کر شہباز شریف حکومت کے قیام کے تقریباً 3 ماہ تک کے وقت میں ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

امریکی ڈالر کی 2018 میں اوسط قیمت 121 روپے 57 پیسے تھی جو آج 222 روپے سے بھی تجاوز کر گیا ہے اور مجموعی طور پر یہ ڈالر کی قیمت میں 100 روپے 50 پیسے کا اضافہ ہے۔

فیصدی اعتبار سے گزشتہ 4سال کے دوران ڈالر کی قیمت میں 82 اعشاریہ 67 فیصد اضافہ ہوا جو ملک کی گزشتہ 70 سال کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ ڈالر کی قیمت میں آج 6روپے سے بھی زائد کا اضافہ بھی معاشی تجزیہ کاروں کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ ڈالر مزید کتنا مہنگا ہوگا؟

 

Related Posts