کراچی کے مختلف علاقوں میں آئندہ چار روز کے دوران پانی کی شدید قلت کا سامنا رہنے کا امکان ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے مطابق پیر کی دوپہر سے شہر کی ایک بڑی پانی کی لائن پر ہنگامی مرمتی کام شروع کیا جا رہا ہے جس کے باعث روزانہ تقریباً 200 ملین گیلن پانی کی کمی ہو گی۔
ترجمان واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے بتایا کہ گلشنِ اقبال بلاک 19 میں واقع 84 انچ قطر کی فیز ون مرکزی پانی کی لائن میں لیکیج کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، خصوصاً رمضان المبارک سے قبل پانی کی ترسیل کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے فوری مرمت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مرمتی کام پیر کو دوپہر 12 بجے شروع ہوا اور اس کے مکمل ہونے میں تقریباً 96 گھنٹے لگنے کی توقع ہے۔ اس دوران ماہر تکنیکی ٹیمیں موقع پر موجود رہیں گی تاکہ کام بروقت مکمل کیا جا سکے۔
مرمت کے دوران دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے پانی کی فراہمی عارضی طور پر کم کر دی جائے گی جس کے نتیجے میں شہر کو روزانہ تقریباً 200 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہو گا۔ اس وقت کراچی کو یومیہ 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے جو مرمت کے دوران کم ہو کر تقریباً 450 ملین گیلن رہ جائے گا۔
ترجمان کے مطابق حب، گھارو اور دیگر پمپنگ اسٹیشنز سے پانی کی سپلائی معمول کے مطابق جاری رہے گی تاہم کلفٹن، ڈیفنس، کورنگی، ملیر، لانڈھی، شاہ فیصل، گلشن، جناح، چنیسر، صدر اور لیاری سمیت متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ لانڈھی اور شیرپاؤ ہائیڈرنٹس بھی عارضی طور پر بند رہیں گے۔
واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن حکام کا کہنا ہے کہ مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد شہر کے پانی کی ترسیلی نظام میں بہتری آئے گی اور لیکیج کے دیرینہ مسائل پر قابو پایا جا سکے گا۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ مرمت کے دوران پانی کا استعمال احتیاط سے کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








