ازبکستان کے صدر کا دورۂ پاکستان: دو طرفہ تعلقات کا عروج

تازہ ترین

تازہ ترین

ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف کے  تاحال جاری اعلیٰ سطحی دو روزہ دورے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی، مثبت اور بامقصد سمت دے دی ہےجو جمعہ کی شام کے بعد  اختتام پذیر ہوگا اور  جسے محض ایک سفارتی سرگرمی کے بجائے ایک طویل المدتی اور ثمر آور شراکت داری کے باقاعدہ آغاز سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

اس دورے کی اہمیت اس لیے بھی غیرمعمولی ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب خطہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات، جیو اسٹریٹیجک صف بندیوں اور معاشی چیلنجز سے دوچار ہے۔ دورے کے دوران ثقافت، تعلیم، ٹیکنالوجی، معدنی وسائل، علاقائی روابط، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں درجنوں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے، تاہم اس بار سب سے نمایاں پہلو یہ رہا کہ یہ معاہدے محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رکھے گئے۔

ماضی میں، خصوصاً 2022 میں طے پانے والے کئی معاہدے خلوصِ نیت کے باوجود جزوی طور پر ہی نافذ ہو سکے تھے اور ہمیشہ کی طرح سست روی کا شکار تھے، جس کی بنیادی وجہ عملدرآمد کے واضح طریقۂ کار، فالو اپ نظام اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا فقدان تھا۔ اس تلخ تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے اس بار دونوں ممالک نے نہ صرف معاہدے کیے بلکہ ان کے عملی نفاذ کے لیے مکمل فریم ورک، واضح روڈ میپ اور مؤثر ادارہ جاتی میکانزم بھی تشکیل دیا ہے۔

اسی تسلسل میں 28 سے زائد  مفاہمتی یادداشتوں پر مشتمل ایک جامع حکمتِ عملی وضع کی گئی ہے، جس کے تحت ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ کونسل بھی قائم کی گئی ہے۔ اس کونسل کی ذمہ داری محض نگرانی تک محدود نہیں بلکہ پیش رفت کا جائزہ، رکاوٹوں کی نشاندہی اور بروقت فیصلے اور ضرورت پڑنے پر قانونی ترامیم کی نگرانی کرنا بھی اس کے دائرۂ  عمل میں شامل ہے۔ یہ پہلو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس بار دونوں ممالک تعلقات کو رسمی بیانات سے آگے لے جا کر عملی اور دیرپا بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

تعلیم اور ثقافت کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، کیونکہ دونوں قیادتیں اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ریاستی سطح کے تعلقات اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتے جب تک عوامی سطح پر روابط فروغ نہ پائیں۔ طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے، ثقافتی وفود، ادبی میلوں اور فنونِ لطیفہ کے پروگرامز کے ذریعے دونوں معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ازبکستان، جو امام بخاریؒ، امام ترمذیؒ اور دیگر عظیم اسلامی شخصیات کی سرزمین ہے، پاکستان کے مذہبی، تاریخی اور تہذیبی شعور میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، جبکہ پاکستان کے عوام بھی وسطی ایشیا کے ساتھ تاریخی رشتوں کو اپنی شناخت کا حصہ سمجھتے ہیں۔

اس دورے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی خیرسگالی کو اب ادارہ جاتی گہرائی میں تبدیل کیا جا رہا ہے، تاکہ تعلقات کسی ایک حکومت یا وقتی حالات کے مرہونِ منت نہ رہیں بلکہ ریاستی پالیسی کا مستقل حصہ بن جائیں۔ ماضی میں اکثر یہ دیکھا گیا کہ معاہدے تو بڑے جذبے کے ساتھ طے پا جاتے تھے، مگر ان پر عملدرآمد کی شرح 15 سے 20 فیصد سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اس بار دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے اس روایت کو بدلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ نتائج ہی اس شراکت داری کا اصل پیمانہ ہوں گے۔

اسی عزم کا عملی مظہر دوطرفہ تجارت کو اگلے پانچ برسوں میں دو ارب ڈالر تک بڑھانے کا فیصلہ ہے۔ یاد دلایا گیا کہ 2023 میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ایک ارب ڈالر کی تجارتی ڈیل طے پائی تھی جو فقط 500 ملین تک ہی پہنچ سکی، تاہم اس حاصل ناکردہ ہدف کو  اس دورے کے بعد مزید وسعت دے کر دو ارب ڈالر کے ہدف میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ادارہ جاتی میکانزم، ریگولیٹری ہم آہنگی، کسٹمز کوآرڈینیشن اور درآمد و برآمد کے معیارات کو یکساں بنانے پر عملی کام شروع کیا جا رہا ہے، تاکہ تاجروں اور صنعت کاروں کو غیرضروری رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سرمایہ کاری کے حوالے سے گفتگو میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ مختلف ممالک کے پیچیدہ قوانین اور ضوابط ایک بڑی رکاوٹ بنتے ہیں، جہاں سرمایہ کاروں کو متعدد محکموں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے نئے میکانزم کے تحت قوانین میں ترامیم، ضوابط میں سادگی اور ون ونڈو فسیلیٹیشن فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور دونوں ممالک میں براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا بہاؤ بڑھے۔ خاص طور پر معدنیات، توانائی، ٹیکسٹائل، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں کو سرمایہ کاری کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔

بینکاری نظام کو بھی ایک کلیدی ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ازبکستان کے مرکزی بینک کے درمیان طریقۂ کار اور قواعد میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر زور دیا گیا، تاکہ مالی لین دین، لیٹر آف کریڈٹ اور دیگر بینکنگ سہولیات میں آسانی ہو۔ اسی طرح لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور فنانشل چینلز کو بہتر بنا کر تجارتی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔عوامی روابط تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، ثقافت اور باہمی اعتماد کو فروغ دیتے ہیں، جو کسی بھی دوطرفہ تعلقات کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں ویزا سہولیات، سیاحتی تبادلوں اور کاروباری وفود کے لیے آسانیوں پر بھی غور کیا گیا۔

ازبکستان اور پاکستان دونوں اپنی خارجہ پالیسی کے تحت مختلف ممالک کے ساتھ متوازن روابط بڑھا رہے ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کو بھی ایک قدرتی پل کے طور پر پیش کیا گیا، کیونکہ ازبکستان میں تقریباً 98 فیصد جبکہ پاکستان میں 97 فیصد آبادی مسلمان ہے، جو دونوں معاشروں کے درمیان فکری اور تہذیبی قربت کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ دورہ پاکستان کے لیے خطے میں ایک فعال، مربوط اور ذمہ دار سفارتی و اسٹریٹیجک کردار ادا کرنے کی سمت ایک مضبوط قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر طے شدہ روڈ میپ کے مطابق معاہدوں پر عملدرآمد جاری رہا تو یہ شراکت داری نہ صرف پاکستان اور ازبکستان بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی استحکام، علاقائی روابط اور مشترکہ خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، اور یہی اس دورے کی اصل کامیابی ہوگی۔

اس دورے کی کلیدی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ازبکستان  اور پاکستان غزہ کے معاملے پر بورڈ آف پیس کا پیٹرن ممبر ہے اور یہ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ کے خطے کے امن و استحکام کیلئے متفق نظر آتے ہیں ۔ تصور یہی کیا جاتا ہے کہ غزہ میں استحکام کیلئے بھی یہ ممالک متفقہ نقطہ نظر رکھتے ہیں  ، اس کے ساتھ ساتھ قازقستان اور ازبکستان اسرائیل کے ساتھ  علامتی نہیں بلکہ عملی اور طویل المدت  تعلقات رکھتے ہیں، جسے مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان  نہ صرف غزہ  کی تعمیر و ترقی میں  حصہ لے سکتا ہے بلکہ ان دونوں ممالک سے برادرانہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہونا ایک قدرتی امر ہوگا کیونکہ ان ممالک کو غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر  معاملات میں  ایسے فریقین  کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو اسرائیل تک رسائی بھی رکھتے ہیں  اور علاقائی استحکام کے بیانیے کا حصہ  بھی ہیں ، جس کے باعث ان کا کردار محض تماشائی نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ثالثانہ اور تعمیری نوعیت کا ہوسکتا ہے ، اور یہی عنصر اس پورے سفارتی تناظر کو غیر معمولی وزن اور وسعت عطا کرتا ہے۔

راقم الحروف ابھی یہ سطور تحریر کر ہی رہا تھا کہ ایک انتہائی دردناک اور تکلیف دہ سانحہ رونما ہوا جب اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں 30سے زائد افراد شہید جبکہ 165سے زائد زخمی ہوگئے اور خدشہ یہ ہے کہ ان شہادتوں میں کہیں اضافہ نہ ہوجائے۔ ازبکستان کے صدر کے دورے کے موقعے پر اس قسم کا بزدلانہ حملہ اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ دہشت گرد ملک کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اربابِ اقتدار دہشت گردی کے ان واقعات پر قابو پانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں اور دہشت گردی کا قلع قمع کریں، بصورتِ دیگر ملک کی خارجہ پالیسی نے بھارت کے خلاف معرکہ حق کے بعد جو اڑان بھری ہے، اور دیگر ممالک سے دو طرفہ تعلقات اور تجارت کے حجم کو بڑھانے سمیت دیگر معاشی اقدامات دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔دہشت گردوں کا صفایا وقت کی ضرورت ہے تاکہ ملک عالمی افق پر سفارت کاری اور معاشی محاذ پر ترقی کی نئی منازل طے کرسکے۔

Related Posts