ویاگرا کی گولیاں، 17 مرد اور جدید کیمرے! برطانوی کنٹنٹ کری ایٹر بونی بلیو کا راز فاش

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

انڈونیشیا نے برطانوی ایڈلٹ کنٹنٹ کری ایٹر ٹیا ایما بلنگر المعروف بونی بلیو کو 10 سال کیلئے ملک میں داخلے سے روک دیا ہے۔ یہ پابندی بالی میں مبینہ فحش مواد کی تیاری اور ویزا قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں لگائی گئی ہے۔

حکام کے مطابق 26 سالہ بونی بلیو کو اس ماہ کے شروع میں بالی میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ کم از کم 17 آسٹریلوی اور برطانوی مرد سیاحوں کے ساتھ موجود تھیں۔ 4 دسمبر کو پولیس نے بالی میں کرائے کے اسٹوڈیو پر چھاپہ مارا جہاں کیمرے کا سامان، مانع حمل ادویات اور ویاگرا کی گولیاں برآمد ہوئیں۔ ایک پک اپ ٹرک بھی ضبط کیا گیا جس پر بینگ بس کا لیبل لگا ہوا تھا۔

بونی بلیو اور ان کے ساتھی لیام اینڈریو جیکسن کو 12 دسمبر کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 200,000 روپیہ (تقریباً 9 پاؤنڈ) جرمانہ کیا گیا۔ وہ اس گاڑی کو بالی میں گھما کر مبینہ طور پر فحش مواد کی تشہیر کر رہے تھے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن کے قائم مقام سربراہ یلدی یوسمین نے کہا کہ انہوں نے ویزا آن ارائیول کا استعمال کمرشل کنٹنٹ کی تیاری کے لیے کیا جو عوامی بے چینی کا باعث بن سکتا تھا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سرگرمیاں حکومت کی بالی کی کوالٹی ٹورزم امیج اور مقامی ثقافتی اقدار کے احترام کی کوششوں سے مطابقت نہیں رکھتیں اس لیے 10 سال کی داخلہ پابندی عائد کی گئی ہے، جو مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

حکام نے بونی بلیو کے فون کی جانچ پڑتال کی تو پرائیویٹ ویڈیو ملی لیکن یہ عوامی تقسیم کے لیے نہیں تھی اس لیے فحش مواد کی تیاری کے الزامات پر مقدمہ نہیں چلایا گیا۔یاد رہے کہ انڈونیشیا میں فحش مواد کی تیاری پر 12 سے 15 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

بونی بلیو کو گزشتہ ہفتے ملک بدر کر دیا گیا۔عدالت میں پیشی کے دوران وہ ہنستی اور لالی پاپ چوستی نظر آئیں۔وہ متنازعہ آن لائن سٹنٹس کی وجہ سے مشہور ہیں اور میسوجنی کو فروغ دینے کے الزامات کا بھی سامنا کر چکی ہیں۔

یہ پابندی انڈونیشیا کے سخت اخلاقی قوانین کی عکاسی کرتی ہے جو مسلمان اکثریتی ملک میں فحش مواد کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں۔

Related Posts