وطن عزیز پر جب بھی کوئی آفت یا مصیبت آن پڑتی ہے تو حکومتِ وقت ہمیشہ افواج پاکستان کو پکار پکار کر ان آفات سے نبرد آزما ہونے کی ہدایات دیتی ہے ۔
اس پیرائے میں اگر دیکھا جائے تو سیاسی اکابرین کا پیدا کیا ہوا تناؤ، الجھاؤ، جھگڑے، گالی گلوچ اور ایسی ترغیب اور تربیت نوجوانوں کو دینا کہ جس میں اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر ہمارے ملک کے نوجوان گالی گلوچ اور تشدد پر اتر آئیں بلکہ اپنے لیڈر کی ذہن سازی کی وجہ سے اتنی زیادہ جانبدارانہ پیروی کرنے لگیں کہ 9 مئی جیسے واقعے کو حقیقت کا روپ دینے سے بھی گریز نہ کریں، دراصل قومی مفاد کے سراسر خلاف ہے۔
ہمارے سیاستدانوں، اساتذہ اور والدین کو نوجوانانِ ملت کی مثبت تربیت پر توجہ دینا ہوگی ۔ ضروری ہے کہ ہم نوجوان نسل کو ایسی تربیت دیں تاکہ آگے جا کر کسی لحاظ سے بھی ان کی ذہن سازی ایسی نہ کی جاسکے کہ جو لیڈر کہے ، اس پر اندھا دھند عمل کرتے چلے جائیں ، چاہے اس کی ہدایات قانون کی زد میں بھی آتی ہوں اور چاہے وہ ہدایات قومی مفاد کے بھی خلاف ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ مختلف مواقع پر یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی جلسہ جلوس ہوتا ہے اور اس کے بعد اگر سرکاری ادارے حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کو غلط کام سے روکیں تو وہ طیش میں آ کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری املاک کی تباہی و بربادی کرنے میں فخر اورآن سمجھتے ہیں۔ جب وطنِ عزیز کے 12 کروڑ نوجوانوں کی ذہن سازی ہی ایسی کی جائے تو ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ کچھ ایسی ہی صورت میں برآمد ہوا کرتا ہے، جس کا مظاہرہ 9 مئی کو دیکھنے میں آیا۔
دراصل 9 مئی کو رونما ہونے والے تمام ترحالات، منظر نامے اور واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہمارے اداروں ، حکومتوں اور عوام کے مابین اعتماد سازی کا فقدان ہے، تاہم اس کے باوجود جو پیش رفت سامنے آرہی ہے اور جو فیصلے ہو رہے ہیں، ان کے بڑے دور رس نتائج برآمد ہوں گے اور وہ نوجوانانِ ملت جنہوں نے اپنے لیڈر کے کہنے پر ایسے کام کیے جو قانون کی زد میں آتے ہیں، انہیں اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا ہوگا کیونکہ قانون اپنا راستہ لیتا ہے چاہے وہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ ہو یا پھر ملٹری ایکٹ ، اس کے تحت ان کارروائیوں کے بعد کم از کم ہر سطح پر نوجوانانِ ملت کو باور کرنا ہوگا کہ قانون چاہے کسی بھی طرح سے ہاتھ میں لیا جائے، جب قانون لاگو ہوجائے تو پھر وہ اپنا راستہ خود لیتا ہے۔
میں ایک بار دوبارہ اس بات پر آتا ہوں کہ جب اس ملت پر کسی بھی قسم کی کوئی آفات ہوں، زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا کوئی وبا آئے تو پھر فوج کو طلب کیا جاتا ہے اور فوج سے امداد حاصل کی جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج اس ملک میں اس وقت سب سے مستعد اور منظم ادارہ ہے اور اس نے ماضی کے ہر مرحلے پر جب اس قسم کی آفات آئیں تو ان سے نبرد آزما ہونے میں پوری پوری کوشش و کاوش کی ، حکومت کی مدد کی اور ان آفات سے نبرد آزما ہو کر بھی دکھایا۔ مثال کے طور پر آزاد کشمیر میں 2005ء میں تاریخ کا بد ترین زلزلہ آیا ، اسی طرح 2010ء اور پھر 2022ء میں ملک کو تاریخ کے بد ترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑ ا اور پاک فوج ہی تمام تر امدادی کاموں میں پیش پیش نظر آئی۔
دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کیلئے بھی پاک فوج نے دیگر سکیورٹی اداروں کی قیادت کی۔ اسی طرح ملکی سرحدوں کی حفاظت بھی ہمارے فوجی جوانوں کے ذمے ہے۔ سرحد پر پاک فوج ڈٹی ہوئی ہے اور مورچہ بند ہے اور پھر دہشت گردی کے عفریت کے خلاف بھی پاک فوج نے جو قربانیاں دی ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہیں۔
وطنِ عزیز کے وہ لرزہ خیز مناظر آج تک ذہنوں پر ثبت ہیں جن میں اس ملت کے بہادر سپاہیوں کے سر تن سے جدا کرکے فٹ بال کھیلی گئی ۔ ایسے انسانیت سوز عمل، درندگی و بربریت کی وہ تاریخ رقم کر گئے جس کی وجہ سے اس قوم کا سر تا قیامت ندامت سے جھکا رہے گا۔ دہشت گردی کے ان لرزہ خیز نقصانات کے باوجود بھی افواجِ پاکستان ملک و ملت کی خدمت کے جذبے پر قائم و دائم اور ڈٹی ہوئی ہیں۔
یہ عجیب معمہ ہے کہ جب کوئی آفت اچانک اس قوم پر ٹوٹ پڑے تو فوج کویاد کیاجاتا ہے اور آج کل سیاست کا طوفان اور آفت برپا ہے کہ جس میں نہ صرف گالی گلوچ بلکہ جلاؤ گھیراؤ، مار دھاڑ اور اس حد تک کہ وطنِ عزیز کی بنیادوں کو ہلا دینے والا عمل گزشتہ دنوں ہی دیکھنے میں آیا۔ سیاسی گالم گلوچ، افراتفری، نفسا نفسی اور جلاؤ گھیراؤ نے ملک میں سنگین عدم استحکام کی وجہ سے معیشت کی بدحالی اور عوام کے ذہنوں میں تناؤ اور الجھاؤ برپا کیا ہے۔ ملک پر نوجوانانِ ملت کا بھروسہ کم ہونا اور 9 لاکھ نوجوانوں کا گزشتہ برس ملک چھوڑنے کا قصہ سامنے آئے توہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ہم آخر کہاں جارہے ہیں۔ افواج پاکستان ایک منظم ادارہ ہے ۔ ملک و ملت نے اپنے خون پسینے سے گزشتہ 75سالوں سے اس کی آبیاری کی ہے، تو کیوں نہ ان سے اس معاملے میں مزید معاونت حاصل کی جائے؟
سیاسی منظر نامے کے مشاہدے میں ہم نے اپنی تمام سیاسی پارٹیوں کو ہر زاوئیے سے دیکھ لیا، پرکھ لیا، سمجھ لیا ہے۔ اور دیکھنے میں یہ آیا کہ اس ملک میں رہنے والے باسیوں کو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 38 کے تحت وہ بنیادی انسانی سہولیات نہیں مل سکیں جو آئین نے ان کو دی ہیں یا جو کسی بھی مہذب ملک میں شہریوں کو دئیے جاتے ہیں۔ ہر لحاظ سے ہم بدحالی کا شکار ہیں اور ہماری معاشی و سیاسی مخدوشیت میں اضافہ ہورہا ہے چاہے وہ معاشی ابتری ہو، سیاسی یا پھر معاشرتی بدحالی ہو۔ اس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور یہ معاملہ اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ “ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔”
لہٰذا نوجوانانِ ملت کو اپنے ملک پاکستان کو اس سمت لے کر آنا ہوگا کہ ملک تنزلی کی جس ڈگر پر چل پڑا ہے، اسے چھوڑ کر اس سے آگے بڑھا جائے اور ہمیں علم ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان باصلاحیت ہیں، ان کی صلاحیتوں کو اگر صحیح سمت دی جائے تو یہ ملک ترقی کرسکتا ہے اور انہی نوجوانوں کی ٹوٹتی ہوئی آس اور امید میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ ملک میں تنزلی ٹھہر سکتی ہے، ملک ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔
ان کی ڈھارس کیلئے مملکتِ پاکستان کو ضرور کچھ کرنا چاہئے چاہے وہ کسی نظام کے تحت ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان کواپنے نوجوانانِ ملت سے روابط کو استوار رکھنا ہوگا اور انہیں وہ سمت دینا ہوگی کہ انہیں اپنے مستقبل میں روشنی کی کچھ کرن نظر آئے۔ لہٰذا میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ:
میرے دیس کے جوانو ! ہمت نہ ہارنا
قدرت کا امتحاں ہے ہمت نہ ہارنا
نئی نسل کے چراغو امید رکھو باقی
یہ ملک ہے تمہارا، ہمت نہ ہارنا
خوشحال تم رہو گے سرشار تم رہو گے
دشوار اس گھڑی میں ہمت نہ ہارنا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں