وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں اپنے قیام میں اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب وہ اتوار تک برطانیہ میں رہیں گے۔ وزیر اعظم اور وفاقی وزراء علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ن لیگ کے قائد نواز شریف سے طویل ملاقاتیں کر رہے ہیں جس میں سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز وزیراعظم اور ان کے وفد کا لندن میں مزید وقت گزارنے کا فیصلہ سامنے آیا۔ اس طرح وزیر اعظم اور ان کے متعدد وزراء کو بیرون ملک گئے ہوئے پانچ دن ہو جائیں گے جس سے پاکستانی قوم کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت کو بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان سنگین معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے لیکن سخت فیصلے کرنے کی بجائے حکومت نے طول دینے کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کی جانب سے اس حکومتی فیصلے پر آج کل شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ کیا ملکی معیشت کے اہم فیصلے اب لندن میں ہوں گے؟َ اس فیصلے سے ایک نیا سوال یہ بھی جنم لے رہا ہے کہ کیا شہباز شریف کے علاوہ نواز شریف بھی ملک کے وزیر اعظم ہیں؟ یہ بات یقینی ہے کہ شہباز شریف اب بھی اہم فیصلے لینے کے لیے اپنے بڑے بھائی نواز شریف پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ یہ اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ مشورہ لینے اور سیاسی دلدل سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے لندن جا پہنچی۔
موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کو یہ خدشہ بھی ہے کہ ن لیگ کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار موجودہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی بجائے خود معاشی فیصلے کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے اور آئی ایم ایف سے آئندہ مذاکرات پر بھی بات چیت ہوئی۔ مخلوط حکومت رہے گی یا انتخابات ہوں گے اس کا فیصلہ بھی لندن میں بیٹھ کر کیا جارہا ہے۔
پی ٹی آئی نے نواز شریف سے مشاورت کرنے پر وزیر اعظم شہباز شریف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنہیں علاج کے بہانے ملک سے باہر جانے اور واپس نہ آنے کے بعد مفرور قرار دیا گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت یقینی طور پر نواز شریف کو اگلے انتخابات سے قبل وطن واپس آنے پر قائل کرنے کی کوشش کرے گی اگر ن لیگ آئندہ انتخابات میں انہیں وزیر اعظم بنانا چاہے۔
پاکستان میں وفاقی کابینہ کے ارکان کی عدم موجودگی بتاتی ہے کہ وہ خطرے کی گھنٹی بج جانے کے باوجود ملک کی معاشی صورتحال سے غافل ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ وزیراعظم سمیت مسلم لیگ (ن) کے قائدین کی ترجیحات ریاستی امور چلانا نہیں بلکہ اپنی پارٹی کے سرکردہ لوگوں کو اوپر لانے سے متعلق ہیں۔
آج یہ سوال تشویشناک حد تک اہم ہوچکا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت معاشی اصلاحات لانے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ آج ملک کو ایک سمجھدار قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کی خاطر سخت معاشی فیصلے کرسکے۔