وہی ہو ا جس کا خدشہ تھا۔ پاک افغان مذاکرت کی ناکامی کے ساتھ ہی پاکستان میں دہشت گردی کی لہر زور پکڑنا شروع ہوگئی۔ وانا کیڈٹ کالج پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے جبکہ بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے اے پی ایس پشاور کی طرز پر خطرناک ترین حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جسے سکیورٹی فورسز نے چابکدستی اور بہترین حکمتِ عملی کے ساتھ شکست دی اور تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا۔ دہشت گرد مسلسل افغانستان سے رابطے میں تھے اور ہدایات لے رہے تھے۔
بدقسمتی سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں کچہری کے نزدیک ہونے والے خودکش دھماکے میں 12افراد شہید جبکہ 27زخمی ہوگئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کے مطابق خود کش حملہ آور کچہری کے اندر جانے کی کوشش میں تھا، خودکش حملہ آور 10 سے 15 منٹ کھڑا رہا، وہ اندر جانے کی پلاننگ کرتا رہا، پولیس کی گاڑی آئی تو خودکش حملہ آور نے حملہ کردیا، پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے، کچہری حملہ میں ملوث کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے گا۔
سال 2014 میں ہونے والا آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ قوم آج تک نہیں بھولی اور محسوس ایسا ہوتا ہے کہ دہشت گردوں نے وانا کیڈٹ کالج کے طلبہ اور اساتذہ کو بھی اسی درندگی کے ساتھ قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، پہلے 2 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور بعد ازاں 3 مزید دہشت گردوں کو بھی جہنم واصل کردیا گیا۔
پاکستان کے خلاف بھارت نے پراکسی وار چھیڑ دی ہے اور ففتھ جنریشن وار کا ہتھیار استعمال کرتےہوئے دہشت گردی کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہو ا ہے۔ ملک کے باقی بڑے شہروں میں بھی سکیورٹی فورسز الرٹ ہیں اور امید یہی ہے کہ دہشت گردی پر آج کی طرح آگے بھی قابو پایا جائے گا۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں مصروف ہیں۔ اس موقعے پر عوام کو بھی اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے کام آنے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔
رواں ہفتے ترکیہ کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور انٹیلی جنس بھی پاکستان کا دورہ کریں گے، ان سے بھی دہشت گردی کے چیلنج پر قابو پانے کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیے جانے کی توقع ہے۔ ایک جانب تو افغانستان کی عبوری طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب کر بیٹھی ہے تو دوسری جانب بھارت نے اسے مکمل طور پر اپنے شکنجے میں لیا ہوا ہے اور اب طالبان کا جھکاؤ بھارت کی جانب نظر آتا ہے جو افغانستان کے کاندھے پر بندوق رکھ کر پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔
ماضی میں بھارت نے جس طرح سیکڑوں کی تعداد میں انفو لیب قائم کرکے پاکستان اور چین کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ کیا، اسی طرح افغانستان کے عوام کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کی نریندر مودی حکومت پاکستان کو نشانہ بنا رہی ہے اور عوام کے ذہنوں کو زہر آلود کیا جارہا ہے جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔
پاکستان کو مسابقتی پالیسی اپناتے ہوئے اس پراپیگنڈے کا جواب دینا ہوگا اور پاکستان پہلے ہی اس پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن اس پر مزید عملدرآمد کی ضرورت ہے اور اگر یہ پراپیگنڈہ شدت اختیار کرگیا تو پاکستان کو مجبوراً افغانستان کے اندر جا کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑے گا تاکہ نہ صرف قومی سلامتی کو یقینی بنایا جائے بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر 51کے مطابق اپنا حق بھی استعمال کیا جائے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق ٹی ٹی پی اور فتنہ الخوارج افغان طالبان کی پراکسی ہیں اور جس بزدلانہ انداز میں پاکستان کو نشانہ بنایا گیا، اس کے بعد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کو کسی نتیجہ خیز مرحلے تک پہنچانے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔
اس سے قبل پاکستان اور افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے، اور اس کے بعد سے ہی دہشت گردوں کے حملے تیز ہوئے جبکہ 7 نومبر کووزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ مذاکرات کا اختتام ہوگیا ہے اور اگلے دور کا کوئی پروگرام یا امید بھی نہیں، ترکیہ اور قطر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ افغان وفد کہہ رہا تھا کہ ان کی زبانی بات کا اعتبار کیا جائے، جس کی دوران گفتگوکوئی گنجائش نہ سمجھی گئی۔ مذاکرات کے دوران حتمی باتوں کو ضابطہ تحریر میں لایا جاتا ہے۔ افغان وفد پاکستان کے مؤقف سے ظاہراً متفق نظر آتا تھا لیکن لکھنے کیلئے راضی نہیں تھا۔ اب ثالثوں نے بھی ہاتھ اٹھا لیے ہیں۔ اگر ثالثوں کو امید کی کرن نظر آتی ، تب تو پاکستانی ٹیم کے ٹھہرنے کا کوئی جواز بن سکتا تھا۔
افغانستان کی جانب سے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور دہشت گردی کے کھلم کھلا فروغ کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ افغانستان عالمی سطح پر مزید تنہا ہو جائے گا، اقوامِ متحدہ اور دیگر ایجنسیوں سے ملنے والے فنڈز کم ہو جائیں گے اور اقوامِ متحدہ کے چیپٹر 7 کے تحت افغانستان کے خلاف کثیرالجہتی کارروائی ہو سکتی ہے۔ پاکستان کیلئے یہ کوئی خوش آئندہ بات نہ ہوگی کیونکہ افغانستان کے عام افراد ہمارے بھائی ہیں۔ تاہم افغان انتظامیہ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔
بہتر یہی ہے کہ افغان طالبان زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کی ہر قسم کی حمایت سے مکمل طور پر دستبردار ہوں اور پاکستان کے مؤقف پر سنجیدگی سے غور کرنے کے ساتھ ساتھ اُن شواہد اور ثبوتوں کو بھی اہمیت دیں جو پاکستان نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پیش کیے ہیں۔ اگر افغان قیادت نے اب بھی حقیقت سے نظریں چرائیں تو اس کے نتائج نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں بھارت جیسے ممالک اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی اور اسٹریٹجک مقاصد کے حصول کے لیے ہر ممکن سازش اور حربہ استعمال کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ماضی میں بھی دہشت گردی، انتہاپسندی اور منظم جرائم کے خاتمے کے لیے بے مثال قربانیاں دیں ، ہر مشکل مرحلے پر قوم کی حفاظت کا فریضہ نبھایا اور آئندہ بھی ملک کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ افغانستان بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے خطے میں پائیدار امن اور تعاون کی راہ اپنائے، تاکہ یہ خطہ ترقی، استحکام اور باہمی احترام کے ایک نئے دور میں داخل ہو سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں