کراچی کے علاقے منگھوپیر میں انسدادِ تجاوزات آپریشن اس وقت میدانِ جنگ میں تبدیل ہوگیا جب قبضہ مافیا اور مشتعل افراد نے پولیس اور انتظامیہ کے خلاف شدید ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ علاقے میں کشیدگی اس قدر بڑھ گئی کہ فضا مسلسل فائرنگ اور پتھراؤ کی آوازوں سے گونجتی رہی جبکہ قریبی رہائشی علاقوں میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا۔
تفصیلات کے مطابق منگھوپیر میں جاری انسدادِ تجاوزات کارروائی کے دوران بعض شرپسند عناصر نے مزاحمت کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ مشتعل مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور قریبی علاقے نیا ناظم آباد کو بھی نشانہ بنایا جہاں متعدد گھروں پر پتھروں کی بارش کر دی گئی۔
پتھراؤ کے نتیجے میں نیا ناظم آباد کے کئی مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ وہاں کھڑی گاڑیوں اور بعض دفاتر کو بھی نقصان پہنچا۔ علاقہ مکین اچانک ہونے والے حملے سے شدید خوفزدہ ہوگئے اور کئی افراد نے گھروں میں محصور ہو کر پناہ لی۔
پولیس حکام کے مطابق صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب مشتعل افراد کی تعداد بڑھ گئی اور مختلف اطراف سے حملے شروع کر دیے گئے۔ شدید مزاحمت کے باعث پولیس کی موجود نفری کو وقتی طور پر پیچھے ہٹنا پڑا جبکہ حالات قابو میں لانے کے لیے مزید اہلکار طلب کر لیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قبضہ مافیا کی جانب سے آپریشن رکوانے کے لیے منظم مزاحمت کی گئی جبکہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور مزید کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








