بالی ووڈ گلوکار زوبین گرگ کا قاتل بے نقاب ہوگیا، قتل کی اصل وجوہات بھی سامنے آگئی ہیں، بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ آسام کا بیٹا کہلانے والے زوبین گرگ کے پراسرار قتل کے کیس میں نت نئے انکشافات سامنے آتے جارہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ برس ستمبر کے دوران زوبین گرگ انتقال کر گئے تھے جس کی وجہ پانی میں ڈوبنا اور حادثاتی موت بتائی گئی، تاہم ان کی ناگہانی موت سے شائقین موسیقی کو صدمہ پہنچا۔ بھارتی پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ قتل کا مقصد کالے دھن کا حصول تھا۔زبین گرگ نے بالی ووڈ میں اپنے معروف گیت یا علی سے شہرت حاصل کی، جو آج بھی مشہور ہے۔
اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کا کہنا ہے کہ زوبین کے سابق منیجر اور کیس کے کلیدی ملزم سدھارتھ شرما نے زوبین کی رقم سے پینے کے پانی کا ایک پلانٹ لیا جس میں 1.1کروڑ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ملزم نے جو رقم اس منصوبے میں لگائی وہ زوبین گرگ کی کمائی سے غبن کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ بھارتی ریاست آسام سے تعلق رکھنے والے زبین گرگ کی شہرت بالی ووڈ تک پہنچنے سے قبل ہی آسام کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی اور زبین گرگ کو بہت سے دیگر حوالوں سے بھی آسام کا بیٹا کہا اور سمجھا جاتا ہے۔
ایس آئی ٹی نے عدالت سے ملزم کے پلانٹ کو فوری قرق کرنے کی درخواست کی۔ جس پر عدالت نے ملزم کو جواب طلبی کا نوٹس جاری کردیا۔ جج نے ریمارکس دئیے کہ سدھارتھ شرما کی سرمایہ کاری زوبین سے غبن کی گئی رقم سے کی گئی جو اس بات کی بنیاد بنی کہ زوبین گرگ کے قتل کا منصوبہ ترتیب دیا گیا۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سدھارتھ شرما کی بے نامی لین دین اور منی لانڈرنگ اس پورے کیس کی بنیاد ہے۔ ایس آئی ٹی کے مطابق نومبر 2022 تک ملزم سدھارتھ شرما جو ماہانہ 57ہزار کماتا تھا، شو کی فیس نقد لے کر کروڑوں جمع کرچکا تھا۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ زوبین گرگ ستمبر 2025 میں سنگاپور میں انتقال کر گئے تھے جس کے بعد ان کی اہلیہ سمیت اہل خانہ نے موت کی ظاہری وجوہات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش کا مطالبہ کیا، جس کے بعد سدھارتھ شرما سمیت دیگر ملزمان سے تفتیش کا آغاز ہوا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








