لڑکا کیا حاصل کرنا چاہتا تھا؟ ٹک ٹاک پر لڑکی بن کر نازیبا ویڈیوز بنانے والا صوابی کا نوجوان گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ جیو نیوز)

صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی جانب سے سوشل میڈیا پر لڑکیوں کا بھیس بدل کر نازیبا ویڈیوز بنانے کی حقیقت سامنے آنے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق عبدالمغیز نامی نوجوان خواتین کا لباس پہن کر نامناسب انداز میں ویڈیوز بناتا تھا اور انہیں ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کر رہا تھا جس پر مقامی لوگوں میں شدید غصہ پایا گیا۔

چوکی بام خیل کے انچارج امیر خان نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کو فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گرفتار نوجوان نے اپنا جرم تسلیم کرتے ہوئے آئندہ ایسی کسی حرکت سے باز رہنے کا وعدہ کیا ہے۔

صوابی پولیس کا کہنا ہے کہ معاشرتی روایات اور اخلاقی حدود کی پامالی برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے تمام عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

ویڈیو بشکریہ ایکسپریس نیوز 

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا ہی ایک حیران کن واقعہ مصر میں بھی پیش آیا جہاں یاسمین کے نام سے مشہور ایک ٹک ٹاک انفلوئنسر کی اصلیت نے سب کو چونکا دیا۔

عرب میڈیا کے مطابق، پولیس کو جب اس ٹک ٹاکر کی نازیبا ڈانس ویڈیوز پر شکایات موصول ہوئیں تو تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ یاسمین دراصل کوئی خاتون نہیں بلکہ 18 سالہ نوجوان عبدالرحمان ہے، جو ایک گاؤں میں اپنی مطلقہ ماں کے ساتھ رہتا ہے اور سیاحت و ہوٹل مینجمنٹ کا طالبعلم ہے۔

تصویر؛ فائل

عبدالرحمان نے اعتراف کیا کہ اس نے یہ جعلی خاتون شناخت فالوورز بڑھانے اور آمدنی کے لیے اپنائی۔ عدالت نے ابتدا میں اسے چار روزہ ریمانڈ پر بھیجا تاہم بعد میں پانچ ہزار مصری پاؤنڈ کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

دونوں واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر شہرت اور پیسے کی دوڑ نے نوجوانوں کو غیر روایتی اور بعض اوقات غیر اخلاقی راستوں کی طرف مائل کر دیا ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قسم کی حرکات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایسے افراد کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کر رہے ہیں۔

Related Posts