گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے گاؤں تلی داس میں اچانک گلیشیئر پھٹنے سے شدید تباہی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں پورا گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ بستی 100 سے زائد گھروں پر مشتمل تھی جو اب مکمل طور پر ملبے میں تبدیل ہو چکی ہے۔
گلیشیئر پھٹنے سے نہ صرف مقامی انفراسٹرکچر تباہ ہوا بلکہ دریا غذر پر ایک مصنوعی جھیل بھی وجود میں آ گئی ہے جو اب نشیبی علاقوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک جھیل کے پانی سے 900 سے زائد مکانات متاثر ہو چکے ہیں جبکہ خدشہ ہے کہ اگر جھیل کا قدرتی بند ٹوٹ گیا تو مزید تباہی آسکتی ہے۔
ایمرجنسی ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پہنچ چکی ہیں اور مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال تاحال نازک ہے اور کسی بھی وقت مزید خطرہ جنم لے سکتا ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایک نمائندے نے خبردار کیا ہے کہ اگر جھیل کے پانی کا دباؤ بڑھا تو قریبی بستیاں شدید متاثر ہوں گی۔ ہم الرٹ ہیں اور مسلسل نگرانی جاری ہے
یہ حالیہ واقعہ اس سلسلے کی کڑی ہے جس میں گلگت بلتستان کے گلیشیئر پگھلنے کے باعث بار بار قدرتی آفات جنم لے رہی ہیں۔ صرف چند روز قبل 23 اگست کو اسی ضلع میں ایک اور گلیشیئر پھٹنے سے سات کلومیٹر کا علاقہ زیر آب آ گیا تھا اور ایک کلومیٹر طویل سڑک بہہ گئی تھی، جس سے متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
ایک اور واقعے میں شندور روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک معطل ہو گئی تاہم ریسکیو اہلکاروں نے روشان گاؤں میں پھنسے 200 افراد کو بحفاظت نکال لیا۔
فوجی دستے بھی امدادی سرگرمیوں میں شامل ہو چکے ہیں اور دریائے گلگت کے اطراف نشیبی علاقوں سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شمالی پاکستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار تیز ہو چکی ہے جس سے ایسے واقعات کی شدت اور تعداد دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کی جانب سے جھیل کی سطح اور اس کے اطراف کے قدرتی بند کی مسلسل نگرانی جاری ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن بھی جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








