حکومت نے ہزاروں ارب ٹیکس ہدف کیلئے بوجھ ایک خاص طبقے پر منتقل کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

ایف بی آر
(فوٹو: ایف بی آر)

اسلام آباد: حکومت نے ٹیکس ہدف کا حصول یقینی بنانے کیلئے اپنا مالی بوجھ ایک خاص طبقے پر منتقل کردیا ہے۔ رواں مالی سال کیلئے ٹیکس ہدف 13 ہزار ارب مقرر کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق  حکومت نے رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کا تقریباً 13 ہزا ارب کا ہدف حاصل کرنے کیلئے مختلف طریقے اختیار کیے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کی جانب سے اپنائے گئے طریقوں میں ٹیکس ریفنڈ روکنا بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق  بازار سے اطلاعات ہیں کہ ٹیکس ریفنڈ حاصل کرنے کیلئے اداروں کو 10 سے 15 فیصد تک اسپیڈ منی ادا کرنا پڑرہی ہے۔کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جاوید بلوانی کا کہنا ہے کہ بازار میں پیسہ نہیں ہے، مہنگائی کم ہورہی ہے لیکن شرحِ سود اب بھی بلند ہے۔

صدر چیمبر آف کامرس نے کہا ایڈوانس انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی مد میں کاروباری طبقے کی جانب سے ایف بی آر کو جو ادائیگیاں کی گئی ہیں اب وہ رقوم ریفنڈ کی صورت میں کاروباری طبقے کو واپس نہیں دی جارہیں۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ مارکیٹ میں پیدا ہونےوالی اس صورتحال کی وجہ حکومت کا رواں سال کا ٹیکس آمدنی کا ہدف ہے، جسے پورا کرنے کیلئے حکومت کاروباری طبقے پر بوجھ بڑھا رہی۔مالی مشکل سے دوچار طبقہ ریفنڈ کے حصول کیلئے رقم ادا کردیتا ہے۔

تاہم ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ریفنڈ کی ادائیگی روک کر رواں سہ ماہی کے اہداف پورے کرنے کے باوجود آئندہ سہ ماہی میں اپنی مشکلات میں اضافہ کرلے گی۔ ملکی معیشت کیلئے بہتر یہ ہے کہ پیسے کے بہاؤ کو آگے بڑھایا جائے جس سے اہداف خود پورے ہوجائیں گے۔

Related Posts