پاکستان کرکٹ ٹیم 14اکتوبر کو احمد آباد میں کھیلے گئے کرکٹ میچ میں میزبان ٹیم بھارت سے بری طرح ہار گئی، ہار جیت کھیل کا حصہ ہے تاہم بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں میدانوں میں بد ترین کارکردگی دکھائی گئی۔
ہفتے کو کھیلے گئے میچ میں بھارتی ٹیم نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کافیصلہ کیا تو کپتان بابر اعظم نے کہا کہ اگر ہم ٹاس جیتتے تو ہم بھی فیلڈنگ کا فیصلہ کرتے۔ بھارتی کپتان روہت شرما نے کہا کہ پاک بھارت میچ میں ٹاس سے فرق نہیں پڑتا تاہم شام کے وقت شبنم کا بھی اپنا کردار ہوتا ہے۔
یقیناً قومی ٹیم کی جانب سے بیٹنگ کا آغاز اچھا رہا، امام الحق اور عبداللہ شفیق کے مابین 41رنز کی پارٹنرشپ سے پاکستان کو اچھا آغاز ملا۔ 41 کے مجموعی اسکور پر عبداللہ شفیق جبکہ 73 کے اسکورپر امام الحق آؤٹ ہوگئے۔
اوپننگ جوڑی کے آغاز کے بعد کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان آئے اور اچھی پارٹنرشپ قائم کی جہاں 155 کے مجموعی اسکور پر کپتان بابر اعظم آؤٹ ہو گئے جس کے بعد پویلین لوٹنے والے کھلاڑیوں کی لائن لگ گئی۔
پاکستان کی چوتھی وکٹ 162، پانچویں 166، چھٹی 168، ساتویں 171، آٹھویں اور نویں 187 جبکہ دسویں 191 کے مجموعی اسکور پر گر گئی۔ یوں پوری ٹیم بھارت کو 192 رنز کا معمولی ہدف دے گئی جس سے 300سے بھی زائد کے ہدف کی توقع کی جارہی تھی۔
بولنگ میں بھی پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ قومی کھلاڑیوں نے بھارت کے صرف 3 کھلاڑیوں یعنی شبھمن گل، ویرات کوہلی اور کپتان روہت شرما کو پویلین بھیجا جو بالترتیب 23، 79اور 156 کے اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
بھارتی کپتان روہت شرما نے 6چوکوں اور 6چھکوں کی مدد سے 86رنز کی اننگز کھیلی جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں میں سے سب سے زیادہ اسکور کپتان بابر اعظم نے 50 جبکہ محمد رضوان نے 49رنز بنا کر کیا۔ امام الحق نے 36 جبکہ عبداللہ شفیق نے 20 رنز بنائے۔
چار کھلاڑیوں کے سوا باقی 7 کھلاڑیوں میں سے کوئی ڈبل فگر میں داخل ہی نہ ہوسکا جبکہ بولنگ میں شاہین آفریدی 2 اور حسن علی 1وکٹ لے کر نمایاں رہے تاہم مجموعی طور پر میچ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ میچ یکطرفہ طور پر بھارت کے نام رہا۔
قبل ازیں قومی کرکٹ ٹیم کا ٹریک ریکارڈ بھارت کے مقابلے میں شاندار رہا ہے تاہم ورلڈ کپ کے میچ میں آج تک ہونے والے مسلسل 8 مقابلوں میں فتح بھارت کے نام رہی ہے اور ہفتے کے روز قومی ٹیم سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بھارت 8ویں جیت کی جو امید لگائے بیٹھا ہے، وہ ٹوٹ جائے گی۔
تاہم ایسا نہ ہوسکا اور قومی ٹیم بری طرح ہار گئی۔ اس کے باوجود ورلڈ کپ کا سفر تمام نہیں ہوا۔ ابھی قومی ٹیم کا اگلا مقابلہ 20اکتوبر کو آسٹریلیا اور پھر 23اکتوبر کو افغانستان سے ہونا ہے۔ آسٹریلیا اور افغانستان دونوں کی کارکردگی پاکستان سے کہیں زیادہ مایوس کن رہی ہے۔
پوائنٹس ٹیبل پر اس وقت بھارت 3 میں سے 3 میچز جیت کر پہلی پوزیشن پر براجمان ہے، نیوزی لینڈ دوسری، جنوبی افریقہ تیسری جبکہ پاکستان چوتھی پوزیشن پر ہے یعنی تاحال پاکستان سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی ٹیم جو محض ذہنی دباؤ یا دیگر وجوہات کے باعث بھارت سے بری طرح ہار گئی، آئندہ کے میچز پر فوکس کرے اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل میں اپنی جگہ بنائے تاکہ فائنل جیت کر ورلڈ کپ پاکستان لانے کا خواب شرمندۂ تعبیر کیاجاسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں