ہیلو! مجھے آپ کی ایک تصویر ملی ہے۔ واٹس ایپ پیغام جو آپ کا اکاؤنٹ ہیک کرکے سب کچھ چھین سکتا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

واٹس ایپ
(فوٹو: قطر ٹریبیون)

واٹس ایپ آج ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، تاہم اس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ آن لائن جعلسازی کے نئے اور خطرناک طریقے بھی سامنے آ رہے ہیں، جن کا مقصد صارفین کے اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ان جعلسازیوں کا آغاز عموماً ایک سادہ مگر مشکوک پیغام سے ہوتا ہے، جو کسی نامعلوم یا بظاہر جاننے والے نمبر سے موصول ہوتا ہے، مثلاً: “ہیلو! یہ دیکھیں، مجھے آپ کی ایک تصویر ملی ہے۔” اس پیغام کے ساتھ ایک لنک دیا جاتا ہے، جس پر کلک کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

اس طریقۂ واردات کو عام طور پر واٹس ایپ گھوسٹ پیئرنگ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے صارف کا واٹس ایپ اکاؤنٹ بغیر اس کی واضح اجازت کے کسی دوسری ڈیوائس سے منسلک کر لیا جاتا ہے۔

یہ طریقہ اس لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے کہ جیسے ہی صارف اس لنک پر کلک کرتا ہے، ایک جعلی ویب پیج کھلتا ہے جو دیکھنے میں واٹس ایپ یا فیس بک جیسا لگتا ہے۔ اس صفحے پر صارف سے فون نمبر درج کرنے یا کسی تصدیقی مرحلے کو مکمل کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

اس عمل کے دوران ہیکرز واٹس ایپ کے “ڈیوائس لنکنگ” فیچر کا غلط استعمال کرتے ہوئے صارف کے اکاؤنٹ کو اپنی ڈیوائس سے جوڑ لیتے ہیں، بعض اوقات یہ عمل بغیر کسی او ٹی پی یا واضح وارننگ کے کیاجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس حملے کی دو عام صورتیں سامنے آئی ہیں۔ ایک میں صارف کو کیو آر کوڈ دکھایا جاتا ہے اور دوسری میں ایک عددی کوڈ فراہم کیا جاتا ہے۔ صارف جب اسے معمول کی تصدیق سمجھ کر قبول کر لیتا ہے تو اس کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیکرز کی ڈیوائس سے منسلک ہو جاتا ہے۔

ایک بار اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو صارف کی ذاتی گفتگو، تصاویر، ویڈیوز، کانٹیکٹس اور حتیٰ کہ بینک سے متعلق معلومات بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہیکرز متاثرہ صارف کے نام سے دوسروں کو پیغامات بھیج کر مزید فراڈ بھی کر سکتے ہیں۔

اس خطرے سے بچاؤ کے لیے صارفین کو چاہیے کہ:

  • واٹس ایپ میں موجود لنکڈ ڈیوائسز کو باقاعدگی سے چیک کریں اور کسی بھی نامعلوم ڈیوائس کو فوراً لاگ آؤٹ کریں۔

  • ٹو فیکٹر ویریفیکیشن کو لازمی طور پر فعال رکھیں۔

  • کسی بھی مشکوک لنک، پیغام یا ویب سائٹ پر ہرگز کلک نہ کریں، چاہے وہ کسی جان پہچان والے نمبر سے ہی کیوں نہ موصول ہو۔

  • او ٹی پی، پِن، سی وی وی، یا واٹس ایپ تصدیقی کوڈ کسی کے ساتھ بھی شیئر نہ کریں۔

اگر کسی صارف کو شبہ ہو کہ اس کا واٹس ایپ یا براؤزر ہیک ہو چکا ہے تو فوراً اس کا استعمال روک دیں۔ مشکوک پیغامات، لنکس اور نوٹیفکیشنز کے اسکرین شاٹس محفوظ کر لیں اور ممکنہ فراڈ سے متعلق تمام تفصیلات اکٹھی کریں۔

شبہ ہونے کی صورت میں ای میل، بینک اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے پاس ورڈ فوراً تبدیل کریں اور اگر مالی نقصان کا اندیشہ ہو تو متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام ایپس اور براؤزرز کو آفیشل اور تازہ ترین ورژن پر اپ ڈیٹ رکھنا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ آپ کی معمولی سی غفلت بھی ایک بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

Related Posts