واٹس ایپ پر ایک نئی قسم کا سائبر فراڈ سامنے آیا ہے جسے اسکرین شیئرنگ فراڈ کہا جا رہا ہے یہ دھوکہ دہی صارفین کے بینک اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات کو خطرے میں ڈالتی ہے جس سے فراڈیوں کو حساس ڈیٹا تک رسائی مل جاتی ہے اگرچہ یہ طریقہ کار سادہ نظر آتا ہے لیکن حالیہ اطلاعات کے مطابق بہت سے لوگ اس کا شکار ہو رہے ہیں۔
فراڈ کا طریقہ کار
دھوکہ باز عام طور پر خود کو بینک یا مالیاتی ادارے کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ واٹس ایپ کے ذریعے صارف سے اسکرین شیئرنگ فیچر فعال کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ جیسے ہی صارف اجازت دیتا ہے فراڈی اس کی اسکرین پر موجود معلومات جیسے پاس ورڈز، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، نجی پیغامات اور او ٹی پی کوڈز تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اس سے غیر قانونی مالی ترسیل ممکن ہوتی ہے اور بعض اوقات پورا اکاؤنٹ ہیک ہو جاتا ہے۔ کچھ معاملات میں فون میں اسپائی ویئر یا کی لاگر نصب کر دیا جاتا ہے جو ہر ٹائپ کیے گئے لفظ کو ریکارڈ کرتا ہے بشمول بینکنگ اور سوشل میڈیا کے پاس ورڈز وغیرہ۔
دھوکہ دہی کا حربہ
فراڈی عام طور پر صارف پر فوری دباؤ ڈالتے ہیں اور اعتماد جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صارف کے بینک اکاؤنٹ میں کوئی سنگین مسئلہ ہے جسے فوری طور پر حل کرنے کے لیے اسکرین شیئرنگ ضروری ہے۔ جیسے ہی صارف اجازت دیتا ہے وہ اس کی اسکرین کو براہِ راست دیکھ کر حساس معلومات چرا لیتے ہیں۔ اگرچہ کچھ بینکنگ ایپس اسکرین شیئرنگ یا ریکارڈنگ کو بلاک کرتی ہیں لیکن صارف کی اجازت سے یہ حفاظتی اقدامات غیر موثر ہو جاتے ہیں۔
بچاؤ کے طریقے
کال کرنے والے کی شناخت ہمیشہ بینک کے سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں۔
اسکرین شیئرنگ صرف انتہائی ضروری حالات میں اور قابلِ اعتماد افراد کے ساتھ کریں۔
نامعلوم ذرائع سے ایپس انسٹال کرنے کا آپشن غیر فعال رکھیں۔
مشکوک نمبروں کو فوراً بلاک اور رپورٹ کریں۔
انجان نمبروں سے آنے والی کالز قبول نہ کریں۔
اسکرین شیئرنگ کے دوران بینکنگ ایپس کا استعمال ہرگز نہ کریں۔
دباؤ میں آ کر فوری فیصلے کرنے سے گریز کریں۔
عالمی صورتحال
متحدہ عرب امارات کی سائبر سیکیورٹی کونسل نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس قسم کے فراڈ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایک سادہ سا پیغام بھی آپ کے اعتماد کو توڑ کر فراڈیوں کو آپ کی اسکرین تک رسائی دے سکتا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، واٹس ایپ پر اسکرین شیئرنگ فیچر کے آغاز کے بعد پہلے تین ماہ میں 44 ہزار سے زائد فراڈ کی شکایات درج ہوئیں۔ اس طرح واٹس ایپ سائبر فراڈ کے حوالے سے سب سے بڑا پلیٹ فارم بن گیا، جو ٹیلی گرام اور انسٹاگرام سے بھی آگے ہے۔ یہ دھوکہ دہی عام طور پر جعلی سرمایہ کاری یا ملازمت کی پیشکشوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔
واٹس ایپ کی نئی سہولت اور خطرات
واٹس ایپ کے تازہ اپ ڈیٹ میں ویڈیو کال کے دوران اسکرین شیئرنگ کا فیچر متعارف کرایا گیا ہے۔ اس سہولت نے دھوکہ بازوں کو موقع دیا کہ وہ صارف کی اسکرین پر موجود ہر چیز جیسے پیغامات نوٹیفکیشنز اور دیگر حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ یہ معلومات آسانی سے غلط ہاتھوں میں جا سکتی ہیں جس سے صارفین کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
واٹس ایپ اسکرین شیئرنگ فراڈ ایک تیزی سے بڑھتا ہوا خطرہ ہے جو صارفین کے ٹیکنالوجی پر بھروسے کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس سے بچاؤ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہوشیاری سے کام لیں غیر ضروری اسکرین شیئرنگ سے گریز کریں اور اپنی ذاتی اور بینکنگ معلومات کو ہر حال میں محفوظ رکھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








