عمران خان کہاں ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

عمران خان

پاکستان کی سیاست اس وقت ایک غیر معمولی کشیدگی، بے چینی اور غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متضاد افواہوں نے پوری قوم کو نہ صرف اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ ایک اہم سوال ہر زبان پر ہے۔

عمران خان آخر کہاں ہیں، اور ان کی حقیقی حالت کیا ہے؟
اس آرٹیکل میں ہم اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ پیش کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر افواہوں کا نیا طوفان
منگل اور بدھ کی درمیانی شب اچانک سوشل میڈیا پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قتل کر دیا گیا ہے۔

ایسی غیر مصدقہ افواہیں پاکستان میں نئی نہیں، لیکن اس بار ان کی شدت اور تیزی غیر معمولی رہی۔

بہت سے سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی حلقوں نے ان افواہوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جبکہ سرکاری سطح پر مکمل خاموشی رہی — اور یہی خاموشی اس افواہ کو مزید طاقت دیتی چلی گئی۔

بھارتی میڈیا کی مداخلت اور پروپیگنڈے کی نئی صورت
جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ افواہیں صرف سوشل میڈیا کی تخلیق نہیں تھیں بلکہ بھارت کے متعدد ٹی وی چینلز نے ان کو بھرپور انداز میں پھیلایا۔

مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ان بھارتی میڈیا اداروں نے اپنی خبر کا ماخذ ایک نامعلوم افغان ٹی وی چینل بتایا، جس کی صداقت نہ تو جانچی گئی اور نہ ہی اس کی کوئی واضح شناخت موجود تھی۔

بھارتی میڈیا نے انہی افواہوں کو یوں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جیسے یہ کسی بڑی سیاسی سازش کا پردہ فاش ہو گیا ہو۔یہ پروپیگنڈہ مہم ماضی کی پاکستان مخالف روایات کو ذہن میں رکھ کر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

اڈیالہ جیل انتظامیہ کی سخت تردید
سوشل میڈیا پر افواہوں کے طوفان کے باوجود اڈیالہ جیل انتظامیہ نے تمام اطلاعات کوبوگس، لغواور بے بنیاد قرار دیا۔
جیل ذرائع کے مطابق عمران خان بدھ کی رات پُرتکلف رات کے کھانے سے لطف اندوز ہوئے، جس میں بھنی ہوئی مچھلی اور مرغ کا سوپ شامل تھا۔

یہ بات خود اس افواہ کی تردید کرتی ہے کہ وہ جیل میں کسی سانحے کا شکار ہوئے ہیں۔جیل سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم سے رات گئے رابطہ نہ ہو سکا، لیکن ان کے عملے نے واضح کیا کہ کوئی غیر معمولی صورت حال نہیں ہے۔

خاندان کی تشویش اور جیل کے باہر کشیدگی
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوا جب عمران خان کی بہنیں بشمول نورین خان، علیمہ خان اور عظمیٰ خان جیل پہنچیں مگر انہیں اندر داخل ہونے کی اجازت نہ ملی۔

اس دوران عمران خان کے خاندان نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے جن میں پولیس کی عمران خان کے ساتھ بدسلوکی، اسٹریٹ لائٹس کی اچانک بندش اور پی ٹی آئی کارکنان کے ساتھ دھکم پیل کے الزامات شامل ہیں۔

یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ایک بزرگ خاتون کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا جبکہ تین ہفتوں سے عمران خان سے ملاقات پر خاموش پابندی عائد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلوک کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ جیل انتظامیہ کچھ چھپا رہی ہے۔

قاسم خان کا عالمی اپیل پر مبنی بیان
بعد ازاں عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا جس نے صورتحال کو مزید غیر معمولی بنا دیا۔
ان کے مطابق، عمران خان کو 845روز سے گرفتاراور جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا ہے۔24 دن سے مکمل تنہائی میں رکھ کر کوئی معلومات نہیں دی جا رہیں۔

عمران خان کی بہنوں کو عدالت کے احکامات کے باوجود ملاقات نہیں دی جا رہی۔

اس دوران نہ فون کال، نہ کوئی جسمانی رابطہ ممکن ہوسکا ہے جبکہ یہ کوئی حفاظتی پروٹوکول نہیں بلکہ ایک جان بوجھ کر اختیار کی گئی پالیسی ہے ۔

قاسم خان نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور جمہوری قوتوں سے اپیل کی کہ عمران خان کی زندگی کا ثبوت فراہم کرنے کیلئے فوری اقدام کیا جائے۔

پی ٹی آئی کا مؤقف
پی ٹی آئی کا مؤقف اس مسئلے کو مزید سنگین بناتا ہے۔

پارٹی کا کہنا تھاکہ عمران خان کو مکمل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔وکلاء اور خاندان تک رسائی بند کر دی گئی ہے۔حکومتی ادارے سچ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر وہ خیریت سے ہیں تو ملاقات کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟ پارٹی کے مطابق یہ ایک سوچی سمجھی کارروائی ہے۔

اہم حکومتی شخصیات کو بھی ملاقات سے روک دیا گیا
مزید تشویش اس وقت بڑھی جب معلوم ہوا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی متعدد بار کوشش کے باوجود عمران خان سے مل نہ سکے اور انہوں نے مبینہ طور پر تنگ آ کر عمران خان سے ملاقات کیلئے احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے دیا۔

دیگر پارٹی رہنماؤں کو بھی یہی جواب ملا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔

یہ رویہ عوام کیلئے نیا سوال پیدا کرتا ہے کہ اگر سب کچھ معمول کے مطابق ہے تو ملاقات پر پابندی کیوں؟

افواہوں کا پھیلاؤ
یہاں یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ پاکستان میں افواہیں تب ہی پھیلتی ہیں جب حکومتی سطح پرمعلومات چھپائی جائیں، صورتحال مبہم رکھی جائے اور ادارے سوالوں کا جواب نہ دیں۔

عمران خان کے معاملے میں یہی تینوں عناصر موجود ہیں۔

ماضی میں بھی پاکستانی سیاست میں غیر یقینی نے کئی مرتبہ افواہوں کو غلط ثابت کیا ہے،لیکن جب تک سرکاری بیان سامنے نہیں آتا، عوامی اضطراب بڑھتا چلا جاتا ہے۔

حقیقت کیا ہے؟ حالات کس سمت اشارہ کرتے ہیں؟
اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق عمران خان زندہ ہیں، جیل میں موجود ہیں، کھانا کھایا ہے اور ان کی طبیعت طبیعت معمول کے مطابق ہے۔

لیکن دوسری طرف خاندان کو ملاقات کی اجازت اور وکلاء کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہیں۔ میڈیا کو کوئی اپڈیٹ نہیں دی گئی جبکہ حکومت ان دو متضاد معاملات پر بالکل خاموش نظر آتی ہے۔ اس لیے اس معاملے کو پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کے سب سے پراسرار اور متنازع واقعات میں شامل کرتی ہیں۔

عمران خان کہاں ہیں؟
یہ سوال آج بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ عمران خان کہاں ہیں؟ اور وہ حقیقتاً کس حالت میں ہیں؟جب تک حکومت شفاف، تحریری اور باضابطہ بیان جاری نہیں کرتی، یہ بحث نہ صرف جاری رہے گی بلکہ عوامی اضطراب بھی مسلسل بڑھتا رہے گا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسی صورتحال پہلے بھی رہی ہے، لیکن اس بار معاملہ ملک کے سب سے مقبول سیاسی رہنما اور عالمی سطح پر پہچانے جانے والے سابق وزیراعظم کے حوالے سے ہے۔اس لیے یہ معاملہ اب محض افواہ نہیں بلکہ ایک قومی سوال بن چکا ہے۔

Related Posts