لاہور کے علاقے گلبرگ ماڈل کالونی میں ایک خوفناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک ورکشاپ کے مالک نے 12 سالہ ملازم بچے کو نذر آتش کردیا۔بچے کے جسم کا بڑا حصہ جھلس گیا ہے تاہم ریسکیو ٹیم نے اسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ بچہ فیضان ایک کار ورکشاپ پر ملازمت کرتا تھا۔ حادثے کے وقت گاڑی کے کاربیریٹر سے پٹرول لیک ہو کر اس کے کپڑوں پر گر گیا۔ فیضان نے جب مالک بابر کو اس بارے میں بتایا تو وہ غصے میں آگیا اور ماچس جلا کر فیضان پر پھینک دی جس سے اس کے کپڑوں نے آگ پکڑ لی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ڈی آئی جی آپریشنز نے نوٹس لیا جس کے بعد ایس ایچ او گلبرگ تیمور عباس خان نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم بابر کو گرفتار کر لیا۔ متاثرہ بچے کے والد شاہ محمد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہناہے کہ یہ واقعہ چائلڈ لیبر کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی سنگین مثال ہے، پاکستان میں قانون کے مطابق بچوں سے مشقت لینا جرم ہے، مگر اس قانون پر موثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث لاکھوں کم عمر بچے آج بھی فیکٹریوں، ہوٹلوں اور ورکشاپس پر کام کرنے پر مجبور ہیں جہاں اکثر ان کے ساتھ ظلم اور بدسلوکی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








