پاکستانی شہری امریکا میں گرفتار، اقدامِ قتل کے سنگین الزامات، آصف مرچنٹ کون ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

آصف مرچنٹ
(فوٹو: آن لائن)

واشنگٹن: امریکی حکام نے سیاستدانوں کے خلاف اقدامِ قتل کے الزام میں ایک پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کو گرفتار کرلیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے امریکی سیاستدانوں کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے آصف رضا مرچنٹ پر ایران سے قریبی تعلقات کا بھی الزام ہے جو نیو یارک میں امریکی حکام کی تحویل میں قانونی کارروائی اور مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ آصف مرچنٹ 46سالہ پاکستانی شہری ہے جس نے قتل کی منصوبہ بندی کی۔

محکمہ انصاف کے الزام کے مطابق نیو یارک میں آصف مرچنٹ نے ایک کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی اور امریکی سیاستدان یا سرکاری عہدیدار کے قتل کی منصوبہ بندی بھی کی تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قتل کی منصوبہ بندی اور حملہ ہونے سے پہلے ہی روک دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ

امریکی سرکاری اداروں کے الزامات کے تحت آصف مرچنٹ جن سیاستدانوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں، ان میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام شامل ہے جبکہ سابق امریکی صدر نے 2020 کے دوران ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملے کی منظوری دی تھی۔

تاہم 13 جولائی کو ڈونلڈ ٹرمپ پر جو قاتلانہ حملہ ہوا اور 20 سالہ حملہ آور کو قتل کردیا گیا، اس واقعے میں آصف مرچنٹ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم نے میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں ، امریکی حکام سے رابطے میں ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

آصف مرچنٹ پر الزامات

بی بی سی کا کہنا ہے کہ آصف مرچنٹ ایران میں کچھ وقت گزارنے کے بعد پاکستان آئے اور امریکا آنے سے قبل جس شخص سے بات کی، اس نے نیو یارک میں ان کی مخبری کردی اور پھر انہوں نے اپنے قتل کے منصوبے کی تفصیلات بھی اسی شخص کو بتا دیں۔ اس دوران ہاتھ سے بندوق کا نشان بھی بنایا۔

الزام ہے کہ آصف مرچنٹ نے اس شخص سے کہا کہ میری ملاقات اجرتی قاتلوں سے کروا دو، پھر جون میں ایف بی آئی کے خفیہ ایجنٹس سے رابطہ کروا دیا گیا۔ ایک اور الزام یہ بھی ہے کہ جون کے دوران آصف مرچنٹ نے اجرتی قاتل سے ملاقات کی جو اصل میں امریکا کے خفیہ آفیسر تھے جن کو 5000ڈالرز کی پیشگی ادائیگی کی گئی۔

عدالتی دستاویزات میں کہا گیا کہ آصف مرچنٹ قتل کی تکمیل سے قبل 12 جولائی کو امریکا سے فرار ہونے کیلئے تیار تھے اور پرواز کی بکنگ بھی ہوچکی تھی۔ امریکا چھوڑنے کے بعد ان کا کوڈ ورڈ کی مدد سے رابطے میں رہنے کا ارادہ تھا، لیکن اسی روز امریکی حکام نے آصف مرچنٹ کو فرار ہونے کی اجازت نہ دیتے ہوئے گرفتار کرلیا۔

Related Posts