آسٹریلیا کی آزاد سینیٹر لیڈیا تھورپ نے پیر کے روز آسٹریلوی پارلیمنٹ ہاؤس میں بادشاہ چارلس سوم کی تقریر کے دوران مداخلت کی اور نعرہ لگایا، “تم میرے بادشاہ نہیں ہو،” انہوں نے کمرے کے پچھلے حصے سے شاہی جوڑے کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا، “ہماری زمین واپس دو، جو تم نے چرایا وہ ہمیں واپس دو۔” اس کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں کمرے سے باہر نکال دیا۔
لیڈیا تھورپ اپنے آبائی حقوق کے لیے سرگرم جدوجہد اور ترقی پسند مقاصد کی حمایت کے لیے مشہور ہیں اور اپنی سیاسی زندگی میں کئی بار متنازع مظاہرے کر چکی ہیں۔
لیڈیا تھورپ کا احتجاج ایک معاہدے کے مطالبے اور ٹورس اسٹریٹ آئی لینڈر لوگوں کے حقوق کے لیے تھا، ساتھ ہی یہ احتجاج برطانوی نوآبادیاتی نظام کی مذمت بھی تھا۔ یہ مظاہرہ اُس تقریب کے دوران ہوا جس میں سیاستدانوں اور معززین کی موجودگی میں بادشاہ کی تقریر سنی جا رہی تھی۔
لیڈیا تھورپ کون ہیں؟
لیڈیا تھورپ گنائی، گنڈِتجمارا اور جب وُرونگ قبیلوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے خاندان میں کئی معروف ابوریجینل کارکن گزرے ہیں۔ 51 سالہ لیڈیا تھورپ نے اپنے سیاسی کیریئر میں آبائی حقوق کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں وِکٹوریا کے نائیڈک کمیٹی کی صدارت بھی شامل ہے۔ یہ کمیٹی آسٹریلیا کے مقامی لوگوں کی تاریخ اور ثقافت کا اعتراف کرتی ہے۔

2017 میں لیڈیا تھورپ وکٹوریا کی ریاستی پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہونے والی پہلی ابوریجینل خاتون بنیں اور گرینز پارٹی کی رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اگرچہ 2018 میں وہ اپنی نشست کھو بیٹھیں لیکن 2020 میں انہوں نے وفاقی سینیٹر کے طور پر سیاست میں دوبارہ واپسی کی۔ اسی دوران انہوں نے ایک میسج اسٹک کے ذریعے احتجاج کیا جس پر 441 نشان درج تھے، جو 1991 کے شاہی کمیشن کے بعد سے حراست میں ہونے والی ہر ابوریجینل موت کی نمائندگی کرتے تھے۔
اہم واقعات
2022 میں دوبارہ منتخب ہونے پر لیڈیا تھورپ نے اس وقت سرخیاں بنائیں جب انہوں نے پارلیمنٹ میں حلف برداری کے دوران ملکہ الزبتھ دوم کو “نوآبادیاتی ملکہ” (Colonizing Her Majesty) کہہ کر مخاطب کیا، جس پر انہیں سرکاری الفاظ کے مطابق حلف دوبارہ لینا پڑا۔
لیڈیا تھورپ کچھ وقت کے لیے گرینز پارٹی کی سینیٹ میں ڈپٹی لیڈر بھی رہیں لیکن بعد میں مستعفی ہو گئیں۔ ان کے استعفے کی وجہ یہ انکشاف تھا کہ انہوں نے ریبلز آؤٹ لا موٹرسائیکل گینگ کے سابق صدر ڈین مارٹن کے ساتھ تعلقات قائم رکھے تھے جبکہ وہ پارلیمانی قانون نافذ کرنے والے کمیٹی کی رکن تھیں۔
لیڈیا تھورپ کی سیاسی زندگی ان کے سخت مؤقف اور احتجاجی رویے کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہی ہے اور وہ آبائی حقوق کی جدوجہد کا ایک اہم چہرہ سمجھی جاتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








