ایران کے آئینی و مذہبی ادارے مجلسِ خبرگانِ رہبری نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ (سپریم لیڈر) منتخب کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
مجلسِ خبرگان کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ شدید جنگی حالات اور ادارے کے خلاف دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں کے باوجود قیادت کے انتخاب کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونے دی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سیکریٹریٹ کے دفاتر پر ہونے والی بمباری میں عملے اور سکیورٹی ٹیم کے کئی ارکان کی شہادت کے باوجود اسلامی جمہوریہ کی قیادت کے انتخاب کا عمل بروقت مکمل کیا گیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے ایران کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں ایک بااثر مگر کم منظر عام پر آنے والی شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ انہیں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ہوئی تھی۔
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی اسمبلی آف ایکسپرٹس (مجلسِ خبرگان) نے منتخب کیا۔ یہ 88 ارکان پر مشتمل آئینی ادارہ ہے جو ملک کے اعلیٰ ترین مذہبی اور سیاسی منصب کے تقرر کا اختیار رکھتا ہے۔ ان کی تقرری آئینی طریقہ کار کے تحت عمل میں آئی ہے اور اسے موروثی اقتدار کی منتقلی نہیں کہا جا رہا اگرچہ اپنے خاندانی پس منظر اور والد کے قریب ہونے کی وجہ سے ان کا نام پہلے ہی جانشینی کے ممکنہ امیدواروں میں لیا جاتا رہا ہے۔
اس تقرری کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں۔ وہ ایسے وقت میں قیادت سنبھال رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور ملک کو اندرونی غیر یقینی صورتحال کا سامنا بھی ہے۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
مجتبیٰ خامنہ ای 8 ستمبر 1969 کو ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہوئے جو ملک کا ایک اہم مذہبی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ وہ مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں جنہوں نے 1989 سے اپنی ہلاکت تک ایران کی قیادت کی۔ وہ آیت اللہ سید جواد خامنہ ای کے پوتے بھی ہیں۔

سیاسی اور مذہبی طور پر سرگرم ماحول میں پرورش پانے والے مجتبیٰ نے اپنے والد کو اسلامی انقلاب کی نمایاں شخصیت بنتے، پھر ایران کے صدر اور بعد ازاں سپریم لیڈر کے منصب تک پہنچتے دیکھا۔

ان کی شادی زہرہ حداد عادل سے ہوئی تھی جو سابق پارلیمنٹ اسپیکر اور معروف قدامت پسند سیاستدان غلام علی حداد عادل کی بیٹی تھیں۔ غلام علی حداد عادل اس وقت ایران کے ایک اہم ثقافتی ادارے کے سربراہ ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تہران میں خامنہ ای خاندان کے رہائشی کمپاؤنڈ پر ہونے والے امریکہ۔اسرائیل فضائی حملے میں زہرہ حداد عادل بھی شہید ہو گئیں۔ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ رہے تاہم ان کی والدہ، بہن، بہنوئی اور ایک بھتیجا بھی جاں بحق ہو گئے۔
تعلیم اور مذہبی تربیت
ایران کے دیگر مذہبی رہنماؤں کی طرح مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنی مذہبی تعلیم قم میں حاصل کی جو شیعہ فقہ اور الہیات کی تعلیم کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں انہوں نے متعدد معروف قدامت پسند علماء سے تعلیم حاصل کی جن میں آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی آیت اللہ لطف اللہ صافی گلپایگانی اور محمد تقی مصباح یزدی شامل ہیں۔

ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بڑا حصہ قم کے مدارس میں تدریس میں گزارا ہے۔ وہ اعلیٰ سطح کی فقہی کلاسیں بھی پڑھاتے رہے ہیں جنہیں درسِ خارج کہا جاتا ہے اور جو مذہبی تعلیم کی بلند ترین سطح سمجھی جاتی ہے۔ بعض حالیہ رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر کچھ عرصے کے لیے اپنی کلاسیں معطل کر دی تھیں تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مذہبی حلقوں میں دہائیوں تک سرگرم رہنے کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کوئی باضابطہ سرکاری یا انتخابی عہدہ نہیں سنبھالا۔
کردار اور اثر و رسوخ
بین الاقوامی میڈیا اکثر انہیں ایک پراسرار اور پس پردہ اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت قرار دیتا رہا ہے۔ وہ عام طور پر عوامی سیاست میں زیادہ نظر نہیں آتے اور نہ ہی ان کے تفصیلی عوامی خطابات یا سیاسی منشور سامنے آئے ہیں۔
ان کا نام ایران میں سیاسی مباحثوں میں وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہا ہے، خاص طور پر صدارتی انتخابات کے دوران جب یہ قیاس آرائیاں کی جاتی تھیں کہ وہ کس امیدوار کی حمایت کر سکتے ہیں تاہم مجتبیٰ خامنہ ای خود عوامی سیاسی بحث میں شاذ و نادر ہی حصہ لیتے ہیں۔
ان کی عوامی موجودگی زیادہ تر سرکاری تقریبات، قومی یادگاری پروگراموں اور مذہبی اجتماعات تک محدود رہی ہے جن کی کوریج ایرانی سرکاری میڈیا کرتا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے بعد وہ ایک حکومت نواز ریلی میں بھی نظر آئے تھے۔
عسکری پس منظر
ایرانی رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے 1980 کی دہائی کے آخر میں ایران۔عراق جنگ کے دوران رضاکارانہ یونٹس میں شمولیت اختیار کی تھی جب ان کے والد ایران کے صدر تھے۔ یہ ان کا فوجی معاملات سے پہلا عملی تجربہ تھا۔

بعض مغربی ذرائع ابلاغ نے انہیں ایران کی طاقتور فورس اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے قریب بھی قرار دیا ہے تاہم اس ادارے میں ان کے کسی باضابطہ عہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
قیادت سنبھالنے کا چیلنج
تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای ایسے وقت میں ایران کی قیادت سنبھال رہے ہیں جسے جدید ایرانی تاریخ کے انتہائی غیر مستحکم ادوار میں شمار کیا جا رہا ہے۔ علاقائی تنازعات، سکیورٹی خدشات اور داخلی سیاسی دباؤ کے باعث ان کی قیادت کو فوری طور پر کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








