انسانی حقوق کی کارکن سمی دین بلوچ کو 8 ستمبر بروز اتوار کو عمان جاتے ہوئے کراچی ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے حراست میں لیا، ان کا نام وفاقی حکومت نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا تھا۔
بلوچستان حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سمی بلوچ سمیت کئی نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے ہیں۔ اس شیڈول میں وہ افراد شامل ہیں جن کی نگرانی یا پابندی قومی سلامتی، عوامی تحفظ یا امن و امان سے متعلق خدشات کی وجہ سے کی جاتی ہے۔
اپنی حراست کے بعد سمی بلوچ نے اس اقدام کے خلاف درخواست دائر کی۔ منگل کو سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، وزارت دفاع اور داخلہ، ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ، وزارت ہوا بازی، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیئے۔
ڈان ڈاٹ کام میں سمی بلوچ کے وکیل محمد جبران ناصر کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہیں ابتدائی طور پر ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن بعد میں بلجیم میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے جاتے وقت روک دیا گیا۔
سمی دین بلوچ کون ہے؟
سمی دین بلوچ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سماجی اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں جو بلوچ عوام کی وکالت کرتی ہیں اور خطے میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل جیسے مسائل پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ ان کی ہم ان کے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ کے 15 سال سے زائد عرصہ قبل اغوا ہونے کے بعد شروع ہوئی تھی اور انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ان کی رہائی اور دیگر لاپتہ افراد کی واپسی کے لیے مہم چلاتے ہوئے گزارا۔
2024 میں سمی دین کو ان کی جدوجہد کے اعتراف میں فرنٹ لائن ڈیفنڈرز ایوارڈ ملا۔ انہوں نے گوادر میں قومی اجتماع میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








