کراچی میں 100 بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے والا شبیر احمد کون ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کے ڈیفنس پولیس نے قیوم آباد سے ایک ملزم شبیر احمد کو گرفتار کیا ہے جس پر 100 سے زائد کمسن بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس دوران ویڈیوز بنانے کا الزام ہے۔ ملزم پیشے کے لحاظ سے جوس اور شربت فروخت کرتا تھا اور الزام ہے کہ وہ قیوم آباد کے علاقے میں کمسن بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔

ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی کے مطابق ملزم کو قیوم آباد کے ڈیفنس علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران اس کے خلاف تین الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس نے ملزم کے موبائل فون سے کئی ویڈیوز برآمد کی ہیں جنہیں فارنزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز کی مدد سے دیگر متاثرین کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

(فوٹو؛ ایم ایم نیوز)

ایک شکایت کنندہ نے بتایا کہ اس کی دو بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ بچیوں نے اپنے والد کو بتایا کہ شربت والا کہلانے والا شخص ان کے ساتھ نازیبا حرکات کرتا تھا اور اس نے ان واقعات کی ویڈیوز بھی بنائیں۔

سینئر پولیس افسر کے مطابق ملزم کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد سے ہے اور وہ گزشتہ دس سال سے کراچی میں مقیم ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ نے اسے کراچی کے بدترین جنسی مجرموں میں سے ایک قرار دیا۔

پولیس ملزم سے مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ اس گھناؤنے جرم کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔

Related Posts