لاپتہ سیاحتی آبدوز میں سوار پاکستانی تاجر شہزادہ داؤد کون ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

اتوار کی رات لاپتہ ہونے والی سیاحتی آبدوز میں شامل پانچ افراد میں دوپاکستانی اڑتالیس سالہ شہزادہ داؤد اور اُن کے انیس سالہ بیٹے سلمان بھی شامل ہیں۔

شہزادہ داؤد کا تعلق پاکستان کے ممتاز کاروباری گروپ داؤد ہرکولیس کارپوریشن سے ہے۔ یہ سیاحتی آبدوز، جس میں صرف چند افراد سوار ہو سکتے ہیں، کینیڈا کے جنوب مشرق میں ایک سو دس سال قبل ڈوبنے والے تاریخی بحری جہاز ٹائی ٹینک کی باقیات دیکھنے کے لئے بحر اوقیانوس کی گہرائی میں گئی تھی۔

شہزادہ داؤد اور اُن کے بیٹے سلمان کے علاوہ ایک برطانوی ارب پتی اور آبدوز کے پائلٹ اور ایک تکنیکی ماہر آبدوز میں موجود ہیں۔

آبدوز کیسے لاپتہ ہوئی؟

سمندر میں غرقاب بحری جہاز ٹائی ٹینک کے ملبے کا نظارہ کرنےکیلئے جانے والی آبدوز جنوب مشرقی کینیڈا کی سرحد پر لاپتہ ہوگئی ہے۔ سمندر کی تہہ میں گہرائی تک جانے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کیلئے ایک کمپنی یہ سہولت لے آئی کہ آپ کو ٹائی ٹینک کا وہ ملبہ دکھا کر لاتے ہیں۔

اس مقصد کیلئے خصوصی طورپر تیار کی گئی ٹائٹن نامی آبدوز 13 ہزار 100 فٹ تک پانی کی گہرائی میں جاسکتی ہے اور اس میں تین مسافر، ایک پائلٹ اور ایک ماہر سوار ہوتا ہے۔

12 ہزار 500 فٹ گہرائی میں ٹائی ٹینگ کا ملبہ دیکھنے کے شوق میں پاکستانی نڑاد برطانوی کاروباری شخصیت شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد بھی ٹکٹ لے کر سب میرین میں سوار ہوگئے۔ ٹائی ٹینک کے ملبے کو دیکھنے کیلئے کمپنی 8 دن پر مشتمل ٹرپ فی کس ڈھائی لاکھ امریکی ڈالرز میں کراتی ہے، سطح سمندر سے سمندر کی تہہ میں موجود ٹائی ٹینک کے ملبے تک پہنچنے میں تقریباً دو گھنٹے لگتے ہیں جبکہ مذکورہ سب میرین کا سفر شروع کرنے کے تقریباً ایک گھنٹہ 45 منٹ بعد رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

اتوار کو سب میرین لاپتہ ہونے کے بعد اس میں صرف 96 گھنٹے کی آکسیجن بچی جو جمعرات تک سب میرین میں موجود لوگوں کے کام آسکتی ہے۔تلاش میں امریکی اور کینیڈین بحریہ کے علاوہ سمندر کی گہرائی میں کام کرنے والے ادارے بھی شریک ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبدوز سمندر کی تہہ میں چلی گئی ہے اور اپنے زور پر واپس آنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی ہے تو پھر اس کے بچنے کے بہت کم آپشن بچتے ہیں۔اگر آبدوز دو سو میٹر گہرائی میں موجود ہے تو پھر چاہے اپنی اصلی حالت میں موجود ہو اس تک غوطہ خور تو کیا نیوی کی آبدوز بھی نہیں پہنچ سکتیں، آبدوز میں موجود لوگوں کو صرف باہر سے ہی نکالا جاسکتاہے، اندر موجود لوگ خود سے باہر نہیں نکل سکتے۔

آبدوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جو اس سفر میں شریک تھے انہوں نے سفر کے آغاز پر لکھا کہ انہیں ٹائی ٹینک کے ملبے تک جانے والے مشن کا حصہ بننے پر فخر ہے لیکن نیو فاؤنڈ لینڈ میں بد ترین موسم سرما کی وجہ سے یہ اس سال کا پہلا اور آخری مشن تھا اور حیرت انگیز اتفاق ہے کہ جس ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے یہ مشن نکلا اور لاپتہ ہوگیا، اس ٹائی ٹینک کا بھی پہلا سفر آخری ثابت ہوا۔

شہزادہ داؤد کون ہیں؟

شہزادہ داؤد پاکستان کی ایک بڑی کمپنی اینگرو کارپوریشن کے وائس چئیرمین ہیں اور فرٹیلائزر، گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ، توانائی، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ وہ کیلی فورنیا میں قائم ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سیٹی (SETI)کے ٹرسٹی ہیں۔

شہزادہ داؤد خیراتی ادارے دا پرنسز ٹرسٹ گلوبل کے بورڈ ممبر ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور برطانیہ دونوں جگہ تعلیم حاصل کی۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پھر یونیورسٹی آف بکنگھم میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے برطانیہ میں رہائش اختیار کی۔ جس کے بعد سن دو ہزار میں ٹیکسٹائل مارکیٹنگ میں ماسٹرز کرنے کے لئے امریکہ میں فلاڈیلفیا یونیورسٹی گئے۔

ان دنوں وہ جنوب مغربی لندن کے مضافاتی علاقے سربی ٹون میں اپنے بیٹے، بیوی کرسٹین اور بیٹی الینا کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ اور انکا بیٹا دونوں برطانوی شہری ہیں۔

اخبار ٹیلی گراف کے مطابق پرنسز ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹیو ول اسٹرا کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کا شہزادہ داؤد اور ان کے خاندان سے پرانا تعلق ہے، اس ہولناک خبر پر ہمیں صدمہ ہے، ہم اُن کی بخیریت واپسی کے لئے دعا گو ہیں اور اس انتہائی مشکل وقت میں ان کے خاندان کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

کرونا کی وبا کے دوران شہزادہ داؤد کے والد حسین داؤد نے، جو پاکستان کے دولتمند ترین لوگوں میں سے ایک ہیں،وباء کے خلاف کام کے لئے تین ملین پاؤنڈ کے مساوی رقم دی تھی۔

مسٹر داؤد اور ان کی جرمن بیوی کرسٹین، جانوروں سے بہت محبت کرتے ہیں۔

داؤد فیملی کا بیان

داؤد فیملی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کا بیٹا سلیمان سائنس فکشن پڑھنے کا بہت شوقین ہے اور والی بال کا پلئیر ہے، جبکہ شہزادہ داؤد کو وائلڈ لائف فوٹوگرافی ، گارڈننگ، اور قدرتی ماحول کو قریب سے دریافت کرنے کا شوق ہے۔

داؤد کے بچوں نے امریکی اے سی ایس انٹرنیشنل اسکول کوب ہیم میں بھی تعلیم حاصل کی اور اسکول نے بھی اپنےسابق طالب علم کے لاپتہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرنے کے لئے بیان جاری کیا ہے۔

انکے ایک پڑوسی نے انہیں بہترین لوگ قرار دیا اور کہا کرسٹین داؤد باغبانی کی بہت شوقین ہیں۔

اینگرو کارپوریشن نےایک بیان جاری کیا، جس میں شہزادہ اور ان کے بیٹے کی فوری اور محفوظ واپسی کی دعا کی گئی ہے۔

Related Posts