کراچی: شہر قائد میں موجود ملیر کا علاقہ ان دنوں شہ سرخیوں میں ہے، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اس حلقے این اے 237ملیر میں عبد الحکیم بلوچ سے شکست ہوئی۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ نے دس ہزار سے زائد ووٹوں سے ہرایا، این اے 237ملیر سے منتخب ہونے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن عبد الحکیم بلوچ ملیر کے رہائشی ہیں اور ان کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے ہے۔
سال 2018 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو اس حلقے سے ٹف ٹائم دینے والے بھی عبدالحکیم بلوچ ہی تھے۔ ملیر میں عبدالحکیم ایک قدآور سیاسی شخصیت ہیں۔
عبدالحکیم بلوچ پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر رکن سندھ اسمبلی بھی رہے اور صوبائی وزیر بھی مقرر ہوئے۔
کراچی کے ضلع ملیر میں واقع درسانو چھنو سے متصل گاؤں دُرمحمد گوٹھ سے عبدالحکیم بلوچ کا تعلق ہے، انہوں نے این ای ڈی یونیورسٹی سے 1979 میں الیکٹرانک انجینئرنگ میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔
عبدالحکیم بلوچ نے 2018 کے عام انتخابات میں پی پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا لیکن اس الیکشن میں انہیں پی ٹی آئی کے امیدوار جمیل احمد کے سامنے شکست کا سامنا ہوئی تھی۔
عبدالحکیم بلوچ کو دوبارہ گنتی پر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ گنتی کے وقت 15 سو ووٹوں کا فرق آیا تھا جس پر الیکشن کمیشن نے جمیل احمد کی کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا تھا۔
عبدالحکیم بلوچ کو 2022 میں ضمنی انتخاب کے موقع پرایک بار پھر پی ٹی آئی کا سامنا کرنا پڑا اور اس بار امیدوار پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان تھے۔
اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں عبدالحکیم بلوچ نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کو 10 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔
مزید پڑھیں:قبضہ غیر قانونی، شیخ رشید کو لال حویلی سات دن میں خالی کرنے کا حکم
میڈیا سے بات کرتے ہوئے عبدالحکیم بلوچ کا کہنا تھا کہ ملیر کے عوام نے پی ٹی آئی سے 2018 کا بدلہ لے لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میری اولین خواہش ہوگی کہ ملیر کے گرین بیلٹ کو بچائیں۔میری پیدائش کراچی کی ہے۔ میں اپنے حلقے کے لیے سخت محنت کروں گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








