خلیل الرحمٰن قمر اغوا کیس، آمنہ عروج پر تشددکس نے اور کیوں کیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

لاہور: عدالت نے ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر کے اغوا سے متعلق کیس میں گرفتار مرکزی ملزمہ آمنہ عروج پر تشدد کا الزام سامنے آنے کے بعد ملزمہ کی میڈیکل کی درخواست منظور کرلی۔

ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر کے ہنی ٹریپ سے متعلق کیس کی ملزمہ کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے تحریری حکم جاری کردیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ سے ملزمہ آمنہ عروج پر جسمانی ریمانڈ کے دوران تشدد ثابت ہوا ہے۔

ہائیکورٹ  کا اپنے فیصلے میں کہنا ہے کہ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022کے تحت زیر حراست تشدد جرم ہے، ملزموں کو سزا دینی ہے تو کیس کی تفتیش ضروری ہے۔ آمنہ عروج کا کہنا ہے کہ اس پر جسمانی ریمانڈ کے دوران جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ملزمہ کی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو حکم دیا کہ متعلقہ پولیس افسران کے خلاف شکایت درج کرکے کارروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر 15جولائی کو مبینہ طورپر اغوا ہوئے اور ہنی ٹریپ کا نشانہ بنائے گئے تھے۔

مغوی ڈرامہ نگار کی نامناسب ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان پر تنقید بھی کی گئی۔ خلیل الرحمٰن قمر کی پریس کانفرنس کے دوران کہی گئی باتیں بھی سوشل میڈیا صارفین کیلئے تنقید کا ذریعہ بن گئیں۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ 21جولائی کو درج کرایا گیا تھا۔

Related Posts