شہرِ قائد کے میئر کیلئے مختلف جماعتوں میں گرما گرم بیان بازی جاری ہے جن میں خاص طور پر پی ٹی آئی، جماعتِ اسلامی اور پیپلز پارٹی اہمیت کی حامل ہیں۔
بڑے سیاسی کھلاڑیوں کی شمولیت سے میئر کراچی کے انتخاب کی صورتحال مزید کشیدہ ہوچکی ہے۔ مختلف سیاسی نمائندوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف اور حق میں بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے۔
تحریکِ انصاف کے ترجمان نے میئر کراچی کے انتخاب میں جماعتِ اسلامی کی جانب سے پیش کردہ امیدوار کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی پری پول دھاندلی میں ملوث ہے۔
ترجمان پی ٹی آئی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سندھ پولیس کے ذریعے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اغوا کیا جارہا ہے۔ الزامات کے باعث سیاسی بیانیہ نمایاں طور پر متاثر ہوا جبکہ انتخابات کی شفافیت پر بھی مختلف سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
دوسری جانب جماعتِ اسلامی کراچی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو آئین کے تحت اختیارات دینے کی اپنی اہمیت ہے۔ ہم بلدیاتی اداروں کے ان اختیارات کو محفوظ بنانے کیلئے پر عزم ہیں۔
سربراہ جماعتِ اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی ہماری غیر مشروط حمایت کا وعدہ کرچکی ہے۔ ہم ان کو ڈپٹی میئر کا عہدہ پیش کر رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے مابین یہ اتحاد بھی میئر کے انتخاب کے متعلق اہمیت کا حامل ہے۔
صوبہ سندھ کے اقتدار پر طویل عرصے سے براجمان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما اور وزیرِ بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی پی پی و وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے میئر کا عہدہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ملے گا جبکہ آئینی اعتبار سے جس جماعت کو عددی برتری حاصل ہوتی ہے، وہی جماعت میئر شپ حاصل کرتی ہے۔ ہم انتخابی عمل میں رکاوٹ پیدا کیے بغیر انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں۔
تینوں جانب سے مختلف بیان سامنے آنے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ جماعتِ اسلامی یا پیپلز پارٹی میں سے عددی برتری کسے حاصل ہے؟ پارٹی نمائندگان کے بیانات سے میئر کے انتخاب میں طاقت اور اقتدار کے حصول کیلئے شدید جدوجہد کی غمازی ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ بیانات سے سیاسی اتحاد کا بھی پتہ چلتا ہے۔ پری پول دھاندلی کے الزامات اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کا مطالبہ بھی میئر کے انتخاب پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ میئر کراچی جماعتِ اسلامی سے ہوگا یا پھر پیپلز پارٹی سے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں