پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں جمہوریت اور سیاسی انتقام کے حوالے سے خطاب کے بعد سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے ہیں۔
بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے اتوار کے جلسے کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے قانون سازوں کی گرفتاریوں پر تنقید کرتے ہوئے حکومت کو سابق عمران خان کی قیادت والی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے نتائج سے خبردار کیا۔
چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے سیاسی ماحول کو خراب کیا، آپ ایک دن کے لیے خوش ہوسکتے ہیں لیکن کل آپ اور میں ایک ہی جیل میں ہوں گے۔
پی پی پی کے سربراہ نے سابق حکمران جماعت کے قانون سازوں پر پارلیمانی امور کا احترام نہ کرنے اور ایوان میں وہی محاذ آرائی والا لہجہ استعمال کرنے پر بھی تنقید کی جو وہ عوامی جلسوں میں استعمال کرتے تھے۔
پارلیمنٹ کے وقار کا احترام کرنے پر زور دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ اگر کوئی قانون ساز ہے تو اس فرد کو ورکنگ ریلیشن شپ برقرار رکھنا ہو گی چاہے وہ عوامی جلسے میں کچھ بھی کہہ رہا ہو۔
انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت کی اتحادی ہونے کے باوجود ان کی جماعت کا حکمران مسلم لیگ (ن) سے اختلاف ہے،میں حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہا ہوں لیکن مختلف میٹنگز میں ان کے ساتھ بیٹھتا ہوں۔
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان پر طنز کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک ملک پر حکومت کرنے والے سابق وزیراعظم نے سیاسی ماحول کو خراب کر دیا ہے۔میری پی ٹی آئی کے بانی سے کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے، مجھے اس بات کی بھی پرواہ نہیں کہ ان کے والد یا والدہ کو کس نے جیل میں ڈالا۔
پی ٹی آئی کے بانی کی جانب سے ہر قسم کے مذاکرات ختم کرنے کے اعلان کے بعد بلاول نے کہا کہ “وہ ہاتھ ملانے کو تیار نہیں ہیں۔” “اگر وہ اس طرح آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔”
بلاول بھٹو زرداری کے قومی اسمبلی میں سیاسی مخالفین کے حق میں بیان کے بعد سوشل میڈیا پر چیئرین پیپلزپارٹی کی تعریف اور پذیرائی کا سلسلہ جاری ہےجس کی وجہ سے وہ پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ بن چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








