موسیٰ خیل، گاڑیوں سے اتار کر قتل کرنے سے پہلے شناختی کارڈ چیکنگ، مقتول اور قاتل کون؟

تازہ ترین

تازہ ترین

موسیٰ خیل

کوئٹہ: موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں دہشت گردوں نے ناکہ لگا کر 23 مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کرنے سے قبل مبنیہ طور پر شناختی کارڈ چیک کیے۔

مسلح ملزمان نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 23 مسافروں کو براہِ راست فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ ایس پی موسیٰ خیل ایوب اچکزئی کا کہنا ہے کہ موسیٰ خیل کا علاقہ پنجاب اور سندھ کی سرحد سے متصل ہے۔ ملزمان نے بین الصوبائی شاہراہ پر ناکہ لگادیا تھا۔

ایس پی موسیٰ خیل نے کہا کہ ملزمان نے مسافروں کو بسوں سے اتارا اور فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے بعد 10 گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ مرنے والے تمام افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔ پولیس اور لیویز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاشوں کو ہسپتال منتقل کردیا۔

مقتول اور قاتل کون؟

ملزمان نے قتل سے قبل مبینہ طور پر مقتولین کے شناختی کارڈ چیک کیے جن کا تعلق پنجاب سے تھا اور ایس پی موسیٰ خیل کے بیان سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ مقتولین کا تعلق پنجاب سے ہے جو کوئی اتفاق نہیں ہوسکتا۔ یہ نتیجہ بھی اخذ کیاجاسکتا ہے کہ تمام کے تمام مقتولین کو قتل ہی اس لیے کیا گیا کیونکہ ان کا تعلق پنجاب سے تھا۔

رہا یہ سوال کہ قاتل کون ہے تو بلوچستان میں آئے روز کالعدم تنظیمیں قومی تنصیبات اور غیر ملکی باشندوں کو نشانہ بناتی رہتی ہیں، جب دہشت گردوں کے مطالبات ایسی کارروائیوں سے بھی پورے نہیں ہوئے تو انہوں نے پنجاب کے باشندوں کو نشانہ بنا کر ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ پنجاب ملک کا گنجان آباد ترین صوبہ ہے۔

دوسری جانب بلوچستان رقبے کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے تاہم آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا ملکی وسائل اور وفاق میں زیادہ اقتدار کا حصول کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ایسے میں بلوچستان کے نوجوانوں کی محرومیوں کو آواز دے کر دہشت گردی پر اکسایا جارہا ہے اور یہ حملے بھی اسی سلسلے کی کڑی محسوس ہوتے ہیں۔

یہی نہیں، بلکہ دہشت گردوں کی اس کارروائی کے باعث پنجاب کے شہریوں میں بھی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ کسی شخص کو صرف اس بنیاد پر قتل کردینا کہ اس کا تعلق پنجاب سے ہے، بے حد خطرناک ہوسکتا ہے جس سے بڑے پیمانے پر نقصِ امن اور سکیورٹی صورتحال میں خرابی کے خدشات جنم لیتے ہیں اور یہی دہشت گردوں کا بنیادی مقصد ہے۔

Related Posts