آئن اسٹائن سے جینے کا حق کیوں چھینا گیا؟ کیا مریم نواز مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

پنجاب کے شہر سرگودھا کے قریب چک نمبر 75 جنوبی میں ایک انتہائی دلخراش اور وحشیانہ قتل کا واقعہ پیش آیا ہے جہاں شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گجرات سے آئے ہوئے سوشل میڈیا نفلوئنسر حسنین نواز عرف آئن اسٹائن کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔

مقتول حسنین نواز اپنے چچا کی شادی کی تقریب میں شامل ہونے سرگودھا آیا تھا۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم اویس اور اس کے ساتھیوں نے حسنین کو اغوا کیا اسے قریب ہی مالٹے کے باغ میں لے گئے اور وہاں کلہاڑی اور ڈنڈوں سے بار بار وار کرکے اس کا قتل کر دیا۔ قتل کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔

تھانہ صدر سرگودھا نے اویس سمیت چار نامزد اور چار نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل اور اغوا کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔

Image

عینی شاہدین اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حسنین نواز کے پاس شادی کے لیے لائی گئی خاصی رقم موجود تھی ملزمان نے قتل کے بعد وہ رقم اور اس کا موبائل فون بھی لوٹ لیا۔ دونوں مرکزی ملزمان بھائی ہیں جن کا تعلق مسلم شیخ برادری سے ہیں اور علاقے کے ایک با اثر زمیندار کے ملازم ہیں۔

واضح رہے کہ متقول حسنین نواز عرف آئین آسٹائن اکثر و بیشتر ملک میں جاری ظلم و ستم اور غیر قانونی اقدامات کی کھل کر مذمت کرتا رہتا تھا۔ آئن اسٹائن کے قتل پر سوشل میڈیا پر غم و غصہ کا ماحول ہے۔

معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر ٹوٹ بٹوٹ سمیت کئی صارفین نے حسنین کے قتل کو انتہا کی بے حسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے نوجوان کا قتل جو کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی جنگ لڑتا رہا صرف چند پیسوں کی خاطر اس سے جینے کا حق چھین لیا گیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ حسنین چلا گیا مگر اس کا سوال وہیں کھڑا ہے۔ اس نے جو سوال کیا اسے شائد اس کا جواب مل گیا ہو گا لیکن وہ جواب ہمیں بتانے نہیں آ سکتا۔ ہمارے لئے تو اس کی جدائی اذیت ناک ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ ہم اسے انصاف دلانے کے لئے ٹویٹس کر سکتے، ٹرینڈ بنا سکتے اس کے علاوہ ہمارے بس میں اور کچھ نہیں۔ آئیں ایک روشن ذہن کے قتل ہونے کا غم منائیں۔ آواز اٹھائیں شائد کسی کے کان تک ہماری فریاد پہنچ جائے اور حسنین کو انصاف مل جائے۔

Related Posts