اے آئی سے بنے اداکار آسکر ایوارڈ کے اہل ہونگے؟ فلمی تنظیم کا بڑا فیصلہ سامنے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ہالی وُڈ کی سب سے بڑی فلمی تنظیم امریکن اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے بنائے گئے اداکار یا اسکرپٹ آسکر ایوارڈ کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

نئے قواعد کے مطابق صرف وہی اداکار، فلمیں اور اسکرین پلے ایوارڈ کے لیے نامزد ہو سکیں گے جنہیں مکمل طور پر انسانوں نے تخلیق کیا ہو یعنی نہ تو کردار مصنوعی طور پر بنایا گیا ہو اور نہ ہی کہانی کسی اے آئی سسٹم یا چیٹ بوٹ نے لکھی ہو۔

اکیڈمی نے وضاحت کی ہے کہ فلم ساز اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کر سکتے ہیں لیکن اگر کوئی کردار مکمل طور پر ڈیجیٹل یا مصنوعی ذہانت سے بنایا گیا ہو تو وہ ایوارڈ کی دوڑ میں شامل نہیں ہوگا۔

اسی طرح اسکرین رائٹنگ کی کیٹیگری میں بھی شرط رکھی گئی ہے کہ صرف وہی اسکرپٹ قابلِ قبول ہوں گے جو انسانی تخلیق ہوں، نہ کہ مشین یا اے آئی کی مدد سے مکمل طور پر تیار کیے گئے ہوں۔

یہ فیصلہ اس خدشے کے بعد سامنے آیا ہے کہ ہالی وُڈ میں اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے انسانی فنکاروں اور مصنفین کی جگہ لے سکتی ہے۔ خاص طور پر ایک مصنوعی طور پر تیار کردہ اداکارہ کے سامنے آنے کے بعد اس بحث نے مزید زور پکڑ لیا تھا۔

اکیڈمی نے مزید کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر فلم سازوں سے اضافی ثبوت بھی طلب کیا جا سکتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تخلیقی کام واقعی انسانی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ نئی پالیسی آئندہ آسکر سیزنز پر لاگو ہوگی۔

Related Posts