عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے اس قیمتی دھات کو تاریخ کی بلند ترین سطحوں تک پہنچا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ مختلف عالمی اقتصادی عوامل اور کرنسیوں کی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہوا ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 33 امریکی ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ قیمت 3,480 ڈالر فی اونس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں نے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 3,300 روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں یہ قیمت 370,700 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ فی دس گرام سونے کی قیمت میں 2,829 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 317,815 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
سونے کی قیمتوں میں یہ اضافے عوامی سطح پر گہری توجہ کا مرکز بن گئے ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ سونا سرمایہ کاری کے لیے ترجیح دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور بین الاقوامی سود کی شرحوں میں ممکنہ کمی کی خبریں سونے کی بڑھتی ہوئی طلب کی بڑی وجہ ہیں۔
تجارتی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف مائل ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے سونا ایک محفوظ پناہ گزین کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








