نئی دہلی: حریت رہنما یاسین ملک کی تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ پر مودی حکومت نے بڑا وار کرتے ہوئے مزید 5سال کی مدت کیلئے پابندی لگا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مودی حکومت کے مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم علیحدگی پسندی کو فروغ دے رہی ہے اور جو کوئی بھارت کی خودمختاری یا سلامتی چیلنج کرے، اسے سخت قانونی کارروائی بھگتنا ہوگی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی دہشت گردی کے خلاف مکمل عدم برداشت (زیرو ٹالرینس پالیسی) پر عمل پیرا ہیں اور انہوں نے کشمیر لبریشن فرنٹ سمیت دیگر جماعتوں کو بھی کالعدم قرار دیا۔
The Modi government has declared the 'Jammu and Kashmir Liberation Front (Mohd. Yasin Malik faction)' as an 'Unlawful Association' for a further period of five years.
The banned outfit continues to engage in activities that foment terror and secessionism in Jammu and Kashmir.…
— Amit Shah (Modi Ka Parivar) (@AmitShah) March 16, 2024
بھارتی میڈیا (نیوز 18)کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے 2019 میں کشمیر لبریشن فرنٹ پر انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قوانین کا اطلاق کرتے ہوئے پابندی عائد کردی تھی اور اس سے چند روز قبل مودی حکومت نے جماعتِ اسلامی پر بھی انہی دفعات کا اطلاق کرتے ہوئے پابندی عائد کردی تھی۔
ماضی میں سربراہ کشمیر لبریشن فرنٹ یاسین ملک کو 24 مئی 2022 کے روز ٹرائل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی جس سے قبل ان پر یو اے پی اے سمیت دیگر کالے قوانین کا اطلاق کیا گیا۔ این آئی اے کی جانب سے عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








