بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے شہر دہرادون میں نسلی تعصب کے باعث نوجوان طالب علم کو چاقو کے وار کرکے قتل کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا۔
تفصیلات کے مطابق تریپورہ کے 24سالہ ایم بی اے کے طالب علم انجل چکما کو تعصب پرست افراد نے چاقوؤں اور لوہے کے موٹے بریسلیٹ کا استعمال کرتے ہوئے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ سر، گردن اور کمر پر کیے جانے وار جان لیوا ثابت ہوئے۔ انجل چکما صرف اپنے بھائی کا دفاع کررہاتھا۔
رواں ماہ 9دسمبر کو یہ واقعہ دہرادون کے علاقے میں پیش آیا جہاں متعصب نوجوان شہریوں نے دونوں بھائیوں کو روک لیا اور مائیکل پر نسلی تعصبانہ جملے کسے۔ انجل کی جانب سے بھائی کا دفاع کرنے کی کوشش پر حملہ آور مشتعل ہوگئے اور چاقوؤں کے وار کرکے انجل چکما کو شدید زخمی کردیا۔
انجل چکما کے والد ترون چکما کا کہنا ہے کہ بھارتی پولیس ابتدا میں مقدمہ درج کرنے سے انکاری تھی اور 2 سے 3روز بعد آل انڈیا چکما اسٹوڈنٹس یونین اور سینئر حکام کی مداخلت پر مقدمہ درج کیا۔ انجل چکما 17روز تک زیر علاج رہنے کے بعد 26دسمبر کو انتقال کر گئے۔
نسلی تعصب کیسا؟
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں بشمول آسام، ناگالینڈ، منی پور اور تری پورہ سے تعلق رکھنے والے بھارتی طلبہ کو عموماً نسلی ، ثقافتی اور لسانی تعصب کا سامنا رہتا ہے جو بڑے شہروں میں اور بھی نمایاں ہوجاتا ہے۔
اس انسانیت سوز تعصب کا آغاز نسل پرستانہ جملوں سے ہوتا ہے کہ آپ تو چینی لگتے ہیں۔ آپ کو ہندی نہیں آتی؟ اگر ہندی نہیں آتی تو یہاں کیا کرنے آئے ہو؟ جب اس قسم کے احمقانہ جملوں پر یہ نوجوان ردِ عمل دیتے ہیں تو انہیں اس قسم کے تشدد کا نشانہ بنا کر حملے کیے جاتے ہیں اور بعض اوقات قتل بھی کردیا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








