تازہ ترین

تازہ ترین

عمر یہی کوئی بیس برس رہی ہوگی جب عثمانیہ سوسائٹی کراچی کی جامع مسجد عثمانیہ کے کچھ بزرگ نمازیوں کے ساتھ مستقل رفاقت قائم ہوگئی۔ لگ بھگ ہر نماز میں ان سے آمنا سامنا ہوتا لیکن باقاعدہ مجلس اشراق کی نماز کے بعد مسجد کے وضوء خانے کے پاس جمتی۔ عام دنوں میں معاملہ صرف مجلس تک رہتا لیکن ہر جمعے کے روز اس مجلس کے بعد کراچی کے کسی بھی نہاری ریسٹورنٹ پر ناشتہ بھی ہوتا۔ برادرم قاری حمایت اللہ جو عمر میں مجھ سے پانچ سال چھوٹے ہیں وہ تو یہ مجلس کسی صورت قضاء نہ ہونے دیتے جبکہ میں کبھی کبھار ڈنڈی مار لیتا۔ اس مجلس میں ہم دونوں بھائیوں کے علاوہ تمام افراد پچاس سے اوپر یا اس کے آس پاس عمر کے تھے لیکن ہمیں ان کے حضور با ادب با ملاحظہ نہ بیٹھنا پڑتا۔ ہم پوری بے تکلفی سے اس مجلس کا لطف لیتے۔ یہ تمام بزرگ والد صاحب رحمہ اللہ کے درس قرآن کے مستقل شریک تھے۔ ان میں سے امین بھائی تو اٹھارہ سال تک مسلسل اس درس کا حصہ رہے جس میں دو بار درس قرآن کی تکمیل ہوئی۔ امین بھائی اس زمانے میں ایکسائز میں حاضر سروس تھے۔ اب ریٹائر ہوکر پنڈی میں قیام پذیر ہیں۔ دو چار برس قبل ان سے وہاں ملاقات ہوئی تو بہت دیر تک پرانی یادوں کا تذکرہ رہا۔

نوے کی دہائی کے اوائل میں جمنے والی ان مجالس کا ہمیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ان میں پوری بے تکلفی سے دنیا جہاں کے موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی اور دوران گپ شپ ہمیں معمولی سا بھی جھجکنا نہیں پڑتا تھا، لہٰذا جب ہم کچھ ایسی اوٹ پٹانگ بات کر جاتے جو ناتجربہ کاری کے سبب ہوتی تو یہ جہاں دیدہ بزرگ پہلے تو ہمارا خوب مذاق اڑا لیتے اور پھر ساتھ ہی ہمیں صراط مستقیم بھی دکھا دیتے۔ اور اگر ہم نوجوانوں والا روایتی حربہ اختیار کرکے اپنی بات پر اڑ جاتے کہ ہم تو غلط ہیں ہی نہیں تو امین بھائی کی جانب سے ٹکا کر ڈانٹ بھی پڑ جاتی۔ وہ ایسی کھری کھری سنا دیتے کہ ہمارے کانوں سے دھواں نکل آتا، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان بزرگوں نے ہمیں اپنی صحبت سے دور کرنے کی دھمکی تک دی ہو۔ یوں روزانہ کی بنیاد پر ہمارے شعور کی تربیت کا ایک ایسا اعلیٰ بندو بست ہو گیا تھا جس کے فوائد کا کوئی حساب ہی نہ تھا۔ عمر کے اس حصے میں عام طور نوجوان گرم خون کے سبب جوش میں رہتے ہیں اور اس جوش کے زیر اثر انہیں بزرگ بیوقوف لگتے ہیں۔ چونکہ یہ خود نئے نئے روشنی میں آئے ہوتے ہیں تو اپنی مینڈک جتنی حدِ نظر کو طور کی مسافت کا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ میں حلفیہ کہہ سکتا ہوں کہ میرے شعور پر نصف احسان تو ان چار چھ بزرگوں کا ہے جو گپ گپ میں ہمارے شعور کو اتنی بلندی تک لے گئے تھے کہ جب اس زمانے میں لکھنا شروع کیا تو بعض بڑی عمر کے قارئین بھی جب پہلی بار ملتے تو حیرت کا شدید جھٹکا کھائے بغیر نہ رہ پاتے۔ خاص طور پر ڈاکٹر سعید قاضی آج تک نہیں بھولے جنہوں نے میرا شناختی کارڈ طلب کر لیا تھا تاکہ یہ بات سو فیصد پکی ہو سکے کہ میں ہی رعایت اللہ فاروقی ہوں۔

اگر آپ غور کیجئے تو یہ چار چھ بزرگ پاکستان کی تقریباً ہر مسجد میں دستیاب ہوتے ہیں جو اذان کے ساتھ ہی مسجد آجاتے ہیں اور نماز کے فوراً بعد مسجد سے روانہ نہیں ہوتے بلکہ کافی دیر تک مسجد میں موجود رہتے ہیں۔ یہ بہت ہی منجھے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔ زمانے کا سرد گرم انہوں نے چکھ رکھا ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض انجینئر تو بعض ماہرین تعلیم ہوتے ہیں۔ بعض ریٹائرڈ سرکاری افسر تو بعض اپنے وقت کے ماہر کار و باری رہے ہوتے ہیں لیکن بالفرض اگر یہ تعلیم یافتہ نہ بھی ہوں تو ان کا تجربہ اور مشاہدہ ہی اتنا گہرا ہوتا ہے جو ینگ ڈگری ہولدرز کی پوری پوری قطار کو دھول چٹانے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اگر آج کے نوجوان چاہتے ہیں کہ انہیں بلا معاوضہ ایسے اساتذہ دستیاب ہوں جو انہیں زندگی اور اس کی سنگینیوں سے نمٹنے کے ہنر سے آراستہ کر سکیں تو انہیں اپنی اپنی مساجد کے ان بزگوں سے سنگت بنانی چاہئے۔ آپ یقین کیجئے یہ اسقدر شفیق ہوتے ہیں کہ آپ کے بس قریب جانے کی دیر ہے۔ وہ آپ کو اپنی آغوش میں لینے کو بیقرار ملیں گے۔ انہیں کوئی درخواست وغیرہ دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ بس آپ دو دن ان سے ہر نماز کے بعد ہاتھ ملا کر نکل جائیں۔ تیسرے دن وہ خود آپ کا وہی ہاتھ پکڑ کر آپ سے آپ کا تعارف اور مصروفیات پوچھیں گے۔ اور یہیں سے آپ کی تربیت شروع ہو جائے گی۔ آپ کو بس کسی ایک سے متعارف ہونا ہے۔ باقیوں سے یہی آپ کو جوڑ دینگے کیونکہ یہ بزرگ باہم مربوط ہوتے ہیں۔ ایک دو ماہ میں ہی یہ تجربہ ہوجاتا ہے کہ حاضر سروس پروفیشنلز کے برخلاف یہ ریٹائرڈ بزرگ اپنی عمر بھر کا نچوڑ نوجوانوں کی جھولی میں ڈالنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ ہمارے نوجوان عام طور پر تعلیم کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن شاہراہ حیات پر سفر کے لئے کسی تجربہ کار کے تجربے کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ عملی زندگی میں قدم رکھنے والے نوجوانوں کے پاس تعلیم تو تازہ ہوتی ہے مگر تجربہ بالکل نہیں ہوتا۔ ایسے میں ان جہاں دیدہ بزرگوں کی صحبت سے بہت ہی گراں قدر مشاورت کا زبردست انتظام ہوجاتا ہے۔ میں تو یہی کہوں گا کہ یہ آپ کے اپنے لوکل لقمان حکیم ہیں بس اپنے لقمان کی انگلی تھام لیجئے ! ! !

Related Posts