کیا یوٹیوب نے ذیشان عثمانی کا چینل بحال کردیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: آن لائن)

یوٹیوب چینل سے شہرت کی بلندیاں چھونے والے ذیشان عثمانی کا چینل اپنے 3ملین سبسکرائبرز اور 13ہزار ویڈیوز کے ساتھ ایک بار پھر فعال ہے۔ متعدد ”ماہرین“ نے دعویٰ کیا تھا کہ یوٹیوب ایک چینل کو ڈیلیٹ کردے تو وہ دوبارہ بحال نہیں کیاجاسکتا۔

تفصیلات کے مطابق ذیشان عثمانی کا اپنے ٹوئٹر پیغام میں چند روز قبل کہنا تھا کہ یوٹیوب نے میرے چینل کو ڈیلیٹ کردیا ہے اور آخری ویڈیو جو میں نے اپ لوڈ کی تھی وہ آننت امبانی کی شادی کے متعلق تھی اور اپنے پیغام میں انہوں نے ”متعلقہ شخصیات“ کو ٹیگ بھی کیا تھا۔

یوٹیوب پر متحرک ہونے والے چینل پر ذیشان الحسن عثمانی نے آننت امبانی کے متعلق ویڈیو 5روز قبل اور پھر ”رمضان میں کیا کریں؟“ کے عنوان سے ایک اور ویڈیو 4روز قبل اپ لوڈ کی جبکہ چینل بحال ہونے کے بعد پہلی ویڈیو میں چینل ڈیلیٹ ہونے کے حوالے سے مداحوں کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔

ذیشان عثمانی کا اندازِ بیان

چینل بحال ہونے کے ساتھ ہی ذیشان عثمانی کا وہ منفرد اندازِ بیان بھی لوٹ آیا جس کے تحت وہ ایک سادہ سے سادہ موضوع کوبھی بے حد دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر تازہ ترین ویڈیو میں ذیشان عثمانی نے عبادات سے دور مسلمانوں کو ایسے موبائل فون سے تشبیہ دی جسے چارج نہ کیا گیا ہو۔

چینل ڈیلیٹ ہونے کے نتیجے میں ذیشان عثمانی کے لاکھوں سبسکرائبرز اور انٹرنیٹ سے سرچ کرکے ان کی ویڈیوز دیکھنے والے مداحوں کو سخت اذیت اور پریشانی کا سامنا رہا۔ چینل کی بحالی کے حوالے سے ذیشان عثمانی کے بیان سمیت دیگر اپ ڈیٹس بھی اسی چینل پر ملاحظہ کی جاسکیں  گی۔

ذیشان عثمانی کے موضوعات

بقول شاعر ”وہ ایک شخص نہیں ہے، وہ ایک امت ہے“ ذیشان عثمانی کا شمار بھی ایسے ہی یوٹیوبرز میں ہمیشہ کیا جائے گا جس نے کروڑوں انسانوں کو نہ صرف اپنے افکار اور علم سے مالا مال کیا بلکہ ان کی تخلیقی اور روحانی تربیت کی بھی کوشش کی۔آج سے 2روز قبل ذیشان عثمانی کا چینل ڈیلیٹ ہونے کے بعد ذیشان عثمانی کے موضوعات کیا تھے؟ کے عنوان سے یہ تحریر شائع کی گئی۔

غلطی کس سے نہیں ہوتی اور ذیشان عثمانی سے بھی یقیناً یہ غلطی سرزد ہوئی کہ اس نے بھارت کی امیر ترین شخصیت کہ جس کے ہاں ہونے والی ایک عروسی تقریب میں بالی ووڈ کے ستاروں کو پروانہ وار جمع ہوتے دیکھا گیا اور ذیشان عثمانی نے اس کا تقابل بھارت کی غربت سے کرڈالا اور اگلے ہی مرحلے پر یوٹیوب چینل غائب ہوگیا جس کی تفصیلات سے قارئین خوب واقف ہیں۔موضوعات کے متعلق مزید معلومات کیلئے مندرجہ بالا لنک پر کلک کیا جاسکتا ہے۔

Related Posts