پاکستان میں کم عمری کی شادی ایک سنگین سماجی مسئلہ کے طور پر پہلے ہی سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے، تاہم یونیسیف کی حالیہ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ یہ مسئلہ پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ شدید ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریباً ایک کروڑ نوّے لاکھ لڑکیاں 18 برس کی عمر سے پہلے ہی بیاہی جاچکی ہیں، جن میں سے 48 لاکھ نے تو پندرہ برس سے کم عمر میں ہی شادی کرلی تھی۔ یہ اعدادوشمار فوری اور مربوط قومی سطح کی کارروائی کا تقاضا کرتے ہیں۔
اگرچہ آئین میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ضمانتیں دی گئی ہیں، مگر صوبوں کے درمیان شادی کی کم از کم قانونی عمر کے تعین میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ صرف سندھ اور اسلام آباد نے لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 برس مقرر کی ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں یہ خلا موجود ہے، جس کے باعث لاکھوں لڑکیاں کم عمری کی شادی، گھریلو تشدد، تعلیم سے محرومی اور بنیادی حقوق سے انکار جیسے مسائل کا شکار ہیں۔
یہ حقائق ’’چائلڈ، ارلی اینڈ فورسڈ میرج (CEFM) پروجیکٹ‘‘ کے تحت منعقدہ قومی مکالمے میں سامنے آئے، جسے اسٹرینتھننگ پارٹیسپیٹری آرگنائزیشن (SPO) نے امریکی محکمہ خارجہ اور سیو دی چلڈرن کے تعاون سے منعقد کیا۔ اس موقع پر سول سوسائٹی کے رہنماؤں، پارلیمانی نمائندوں، بچوں کے تحفظ کے ماہرین، نوجوانوں اور سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔
سیو دی چلڈرن کے کنٹری ڈائریکٹر خرم گوندل نے کہا کہ حقیقی تبدیلی صرف پالیسی سے نہیں آتی، اس کے لیے مستقل جدوجہد، عزم اور حکومت، سول سوسائٹی و مقامی اداروں کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








