پاکستان کو آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے تحت 1اعشاریہ 5 ارب ڈالر کی قسط موصول ہو گئی ہے۔وزیر اعظم چین کا دورہ کر رہے ہیں اوراب اگر پاکستان کو چین کی طرف سے مالی امداد ملتی ہے تو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا تاہم معاشی اصلاحات میں تاخیر اور عدم توازن کے خطرے کی وجہ سے ملکی معیشت کو بدستور خطرات درپیش ہیں۔
آئی ایم ایف کا بیل آؤٹ پروگرام اس سال ستمبر تک ختم ہو جائے گا۔ عالمی مالیاتی فنڈ ساتواں جائزہ اپریل میں اور آخری سالانہ بجٹ کے بعد منعقد کرے گا۔
پاکستان جس نے پچھلے 50 سالوں میں آئی ایم ایف سے 20 بیل آؤٹ مانگے ہیں، اب قرضوں پرانحصار ختم کرناچاہتا ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین جنہوں نے آئی ایم ایف کے موجودہ قرض کے آخری مرحلے پر بات چیت کی، بجٹ کی کمی کو جی ڈی پی کے 6اعشاریہ 1 سے ڈھائی تا5فیصد کرنے کا ہدف دے دیا ہے اور معاشی ترقی کو 5سے 6 فیصد تک بڑھانا چاہتے ہیں، شوکت ترین کا کہنا ہے کہ پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں کسی اور بیل آؤٹ کی ضرورت نہیں ہے۔
قرض پروگرام کے ایک حصے کے طور پر پاکستان کو جون تک آئی ایم ایف کی مزید کئی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ اس میں ذاتی انکم ٹیکس سلیب کو کم کرنا بھی شامل ہے جس سے تنخواہ دار طبقے اور کاروبار کرنے والے افراد متاثر ہوں گے۔
وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرے گی اور وزیراعظم نے نجی کاروباروں پر زور دیا ہے کہ وہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔ آئی ایم ایف اگلے بجٹ میں ٹیکس سلیب کو کم کرنا چاہتا ہے جس کی وزیر خزانہ نے گزشتہ مالی سال میں مخالفت کی تھی جبکہ وزیر اعظم عمران خان ماضی میں آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔
حکومت کو پاکستان کا آئی ایم ایف سے پاک مستقبل یقینی بنانے کیلئے جاری بانڈز، برآمدات کو بڑھانا، توانائی کے شعبے اور کاروبار کو ترغیب دینا ہوگی۔
پی ٹی آئی حکومت نے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری میں اضافہ کیا ہے لیکن مرکزی بینک ٹیکسوں کو وسیع کرنے یا خسارے میں چلنے والی سرکاری کمپنیوں کو فروخت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اب پاکستانی قوم کو ان نئی شرائط کو قبول کرنا ہوگا جو نافذ ہونے والی ہیں۔
بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کے بعد بھی رواں برس پاکستان کی معیشت میں 4 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو اقتصادی ٹیم کے ہدف سے کم ہے۔افراطِ زر کی شرح تقریباً 9اعشاریہ 4 فیصد تک بلند رہے گی۔ یہ مشکل ضرور ہے لیکن ناگزیرہے تاکہ معیشت میں پائیدار ترقی ہو اور ہمیں آخرکار آئی ایم ایف سے پاک مستقبل کی طرف لے جا سکے۔