یمن میں انسانی بحران اس وقت سنگین صورت اختیار کرچکا ہے، ایک فیصد حوثی باغیوں کو نشانہ بنانے کیلئے پورے یمن کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) بھی اس بات سے واقفیت رکھتی ہے کہ یمن ودیگر ممالک میں ممنوعہ راکٹوں اور کلسٹر بم سے بمباری کے اثرات کئی دہائیوں تک اپنے مضر اثرات دکھائینگے کیونکہ اکثر ممنوعہ ہتھیاروں اور ایمونیشن میں صحیح نشانہ اور ٹارگٹ پر تباہی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے ڈیپلیٹڈ یورینیم کااستعمال کیا جاتا ہے۔
یمن کے حالات انتہائی مخدوش ہوچکے ہیں، وہاں بسنے والے عوام کو پانی میسر ہے نہ خوراک، ادویات موجود ہیں نہ علاج، گیس اورایندھن کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے وارڈز کیلئے آکسیجن کی سپلائی کرنیوالی واحد کمپنی بھی بمباری کے نتیجے میں تباہ ہوچکی ہے، اسپتال برباد ہوچکے ہیں۔یمن میں صورتحال اس حد تک تشویشناک ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ڈاکٹر جمیل احمد خان کے مزید کالمز پڑھیں:
وزیراعظم کا دورہ چین پاکستان کی معیشت کیلئے کتنا اہم ہے؟
یوکرین کشیدگی کے خطرناک مضمرات
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں