یمن میں سنگین انسانی بحران

تازہ ترین

تازہ ترین

یمن میں انسانی بحران اس وقت سنگین صورت اختیار کرچکا ہے، ایک فیصد حوثی باغیوں کو نشانہ بنانے کیلئے پورے یمن کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) بھی اس بات سے واقفیت رکھتی ہے کہ یمن ودیگر ممالک میں ممنوعہ راکٹوں اور کلسٹر بم سے بمباری کے اثرات کئی دہائیوں تک اپنے مضر اثرات دکھائینگے کیونکہ اکثر ممنوعہ ہتھیاروں اور ایمونیشن میں صحیح نشانہ اور ٹارگٹ پر تباہی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے ڈیپلیٹڈ یورینیم کااستعمال کیا جاتا ہے۔

یمن کے حالات انتہائی مخدوش ہوچکے ہیں، وہاں بسنے والے عوام کو پانی میسر ہے نہ خوراک، ادویات موجود ہیں نہ علاج، گیس اورایندھن کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے وارڈز کیلئے آکسیجن کی سپلائی کرنیوالی واحد کمپنی بھی بمباری کے نتیجے میں تباہ ہوچکی ہے، اسپتال برباد ہوچکے ہیں۔یمن میں صورتحال اس حد تک تشویشناک ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ڈاکٹر جمیل احمد خان کے مزید کالمز پڑھیں:

وزیراعظم کا دورہ چین پاکستان کی معیشت کیلئے کتنا اہم ہے؟

یوکرین کشیدگی کے خطرناک مضمرات

یمن میں تقریباً 24لاکھ کے قریب افراد زندگی اور موت کی جنگ لڑرہے ہیں اور یمن میں اٹھنے والا انسانی بحران دنیا میں کہیں اور نہیں ہے، گوکہ افغانستان میں بھی حالات پیچیدہ ہوچکے ہیں تاہم ہماری دعا اور خواہش یہی ہے کہ وہاں انسانی بحران مزید شدت اختیار نہ کرے۔یمن کے لوگ پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں اور پاکستانیوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن یمن کے حالات دیکھ کر دل رنج سے بھرجاتا ہے ۔یمن کے لوگوں کی خوش مزاجی کے سبب اسے مسکراہٹوں کا ملک بھی کہا جاتا ہے۔

لیکن یمن کی صورتحال پر کچھ اس قسم کے اشعار زبان پر آتے ہیں کہ:

ہم نے مانا کہ سبھی چاند ستارے ہوں گے

ایک پرچم کے تلے سارے کے سارے ہوں گے

جتنے مارے ہیں مسلمان مسلمانوں نے

ساری دنیا نے بھی مل کر نہیں مارے ہوں گے

او آئی سی کے چارٹر کے 9اور10 میں یہ واضح ہے کہ اس کے ارکان مشاورت کے ساتھ کسی بھی انسانی بحران کو بڑھنے سے روکیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت یہاں اثر و رسوخ کے بغیر شنوائی ممکن نہیں ہوتی ۔جب کسی ملک میں انسانی بحران حد سے گزرجاتا ہے تو جان بچانے کی خاطر لوگ اپنی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر دیگر ممالک کی طرف کوچ کرتے ہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ ایسی ہی ہجرت کی خواہش لئے اکثر لوگ جان کی بازی بھی ہارجاتے ہیں ۔اس وقت کچھ ایسی صورتحال یمن میں بھی درپیش ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر اورمہاجرین سے متعلق کنونشن انسانی بحران کی صورت میں ہجرت کرنیوالوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں لیکن اکثر بااثر ممالک ان بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی سرحدیں بند کردیتے ہیں جس کی وجہ سے ہجرت کرکے آنیوالے خود اپنی جان ضائع کرنے سے بھی اجتناب نہیں کرتے لیکن اگر عالمی ادارے اپنے چارٹر پر عمل کروانے میں کامیاب ہوجائیں تو شاید کہیں کوئی انسانی بحران جنم ہی نہ لے۔

یمن کا تنازع خطے میں ایک ایسی صورتحال پیدا کررہا ہے کہ جس کے سبب خلیجی ممالک میں خصوصی اور دیگر ممالک میں عمومی طور پر ردعمل کے تحت یمن میں موجود القاعدہ اور  داعش میں لوگ زیادہ تعداد میں شامل ہوکر دہشت گردانہ سرگرمیاں بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کے تحت نہ صرف متحدہ عرب امارات ایئر پورٹ پر حملے جیسے واقعات بلکہ دیگر دہشت گردی بھی گرم ہونا شروع ہونے کا بھی قوی احتمال ہے۔

ظاہر ہے کہ ایسی صورتحال میں ایران کے سلیپر سیلز بھی فعال ہوکرحوثیوں کی حمایت میں یمن اور دیگر ممالک میں افراتفری کاسبب بن سکتے ہیں ۔ایسی صورت میں تقریباً 70 لاکھ پاکستانی جوخلیجی ممالک میں قیام پذیر ہیں ان کی وہاں گزر بسر دشوار گزار ہوجائے گی۔لہٰذا وقت کا تقاضہ ہے کہ مستقبل کی ممکنہ بدلتی صورتحال کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہمیں پہلے سے ان پاکستانیوں کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔جیسے 90 کی دہائی میں کویت پر عراق کے حملے کے بعد پاکستانی تارکین وطن کا ایک سمندر امڈ آیا تھااور انہیں سنبھالنا تقریباً ناممکن ہوگیاتھا، خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہی تاریخ ایک بارپھر خود کو دہرائے۔ 

Related Posts