وفاقی حکومت نے مہنگائی میں مسلسل اضافہ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی کسی موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا۔ مرکزی بینک نے حال ہی میں جون کیلئے حیران کن افراطِ زر اور تجارتی خسارے کے باوجود پالیسی ریٹ 125 بیس پوائنٹ تک بڑھا دیا تھا جس سے معاشی صورتحال مزید مخدوش ہوگئی۔
یہ 125 بیس پوائنٹس کا اضافہ پہلے لگائی گئی 150 پوائنٹس کی چھلانگ کے بعد ہوا جس کا مقصد طلب میں کمی تھی، لیکن محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اس کا مطلوبہ اثر نہیں ہوا۔ بینچ مارک ریٹ 15 فیصد تک جا پہنچا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اسٹیٹ بینک ماہانہ کی بنیاد پر اس میں مزید اضافہ نہ کرے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ اس سال معیشت کی شرحِ نمو 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہے گی جسے انہوں نے صحت مندانہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے مہنگائی قابو میں رہے گی۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹارگیٹڈ سبسڈی دے کر غریبوں کو تحفظ فراہم کرے۔
غور کیا جائے تو اسٹیٹ بینک نے افراطِ زر کنٹرول کرنے کیلئے جارحانہ راستہ منتخب کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس سے مقررہ اہداف حاصل ہوسکیں گے؟ گورنر اسٹیٹ بینک نے بڑی بے باکی سے کہا کہ پوری دنیا میں مرکزی بینکوں کے سربراہان مہنگائی کے موجودہ رجحانات سے پریشان ہیں جبکہ اس صورتحال کا کوئی واضح حل نہیں۔
دوسری جانب مقامی اور عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینکوں کے سخت شرحِ سود سے افراطِ زر کنٹرول کرنے کے رجحان سے عالمی معیشت کساد بازاری کا شکار ہوسکتی ہے۔ پاکستان کو ضروری میکرو ایڈجسٹمنٹ کرنا ہوگی تاکہ اسٹیٹ بینک پر صرف مانیٹری سختی کے ذریعے مہنگائی کنٹرول کرنے کا دباؤ نہ رہے۔
مثال کے طور پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے افراطِ زر میں کافی اضافہ ہوچکا ہے اور مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح متوسط طبقے کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل رہی ہے۔
حال ہی میں سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے آئی جو افراطِ زر اور درآمدات و برآمدات کا توازن برقرار نہیں رکھ سکا۔ ضروریاتِ زندگی کیلئے پریشان اور مشتعل عوام نے ملک کے سابق وزیر اعظم کا گھر جلا دیا۔
ایسے میں پاکستانی حکام کو بھی عوام کے غیض و غضب سے بچنے کیلئے لچک پر مبنی پالیسی اپنانا ہوگی تاکہ ملکی معیشت مسلسل ہچکولے کھانے کی بجائے کسی کنارے لگے اور غریبوں کو بھی سکھ کا سانس لینا نصیب ہوسکے۔