جوانی کی اہمیت اور اسلام

تازہ ترین

تازہ ترین

انسانی زندگی عروج و زوال، طاقت اور کمزوری اور فائدے اور نقصان کے اردگرد گھومتی ہے۔ اگر کوئی شخص اس تمام تر اتھل پتھل پر غور نہ کرنا چاہے تو الگ بات ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایک انسان دوسرے سے کسی نہ کسی طرح برسرِ پیکار اور مدِ مقابل ہی رہتا ہے۔

جب کوئی انسان جنم لیتا ہے تو اسے ماں باپ پال پوس کر بڑا کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ بچپن میں انسان کے پاس عقل اور طاقت دونوں ہی نہیں ہوتے۔ جب جوان ہوجاتا ہے تو طاقت اور کچھ نہ کچھ حد تک عقل پیدا ہوجاتی ہے لیکن جوانی کی سرمستی اور بے خودی کی بات ہی الگ ہوتی ہے۔

یہی وہ دور ہوتا ہے جب کچھ کر گزرنے کا جذبہ اسے عمل پر ابھارتا ہے اور دنیا کے زیادہ تر عظیم لوگوں نے بڑے بڑے کارہائے نمایاں اپنی جوانی کے دور میں ہی سرانجام دئیے ہیں جسے سمجھنے کیلئے تاریخ کی کتب سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

جب بڑھاپا آجاتا ہے تو انسانی شعور اور عقل اپنے عروج کو پہنچ جاتی ہے کیونکہ اس عمر میں وہ اپنی تمام تر زندگی کا تجزیہ کرسکتا ہے اور حقیقی معنوں میں بہت حد تک اپنی غلطیوں کو سمجھنے لگ جاتا ہے تاہم افسوس کا مقام اس وقت آتا ہے جب بعض غلطیوں کو سدھارا نہیں جاسکتا۔

اگر اس کی سب سے بڑی وجہ تلاش کیجئے تو وہ یہی ہے کہ زندگی میں ہر کام دو جمع دو چار کے فارمولے کے تحت نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً اگر کسی شخص کی سالگرہ کے موقعے پر کوئی غلطی ہوئی تو اگلے سال کی سالگرہ پر اس کا ازالہ کیا جاسکتا ہے لیکن اگر وہ غلطی وفات کے موقعے پر ہوجائے تو اس کا ازالہ ممکن نہیں۔

نہ وہ شخص دوبارہ جنم لے کر آپ کے سامنے آسکتا ہے کہ آپ اس سے معذرت کر لیں اور نہ ہی اس کی نمازِ جنازہ ایک بار پھر پڑھائی جاسکتی ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ ایسی بے شمار مثالوں سے متعدد ایسی غلطیاں سامنے آسکتی ہیں جن کا ازالہ ممکن نہیں ہوسکتا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسی تمام تر غلطیوں کے ارتکاب سے اجتناب کریں اور خاص طور پر اپنی جوانی کے دور میں سب سے اہم اور اچھے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیونکہ زندگی میں جوانی کی اہمیت بچپن اور بڑھاپے دونوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

ویسے تو اللہ تعالیٰ نے بچپن بھی کھیل کود اور فضول کاموں کیلئے نہیں بنایا، لیکن انسان کھیل کود اور چھوٹی موٹی غلطیوں سے سیکھ کر ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھا ہوجاتا ہے۔

اسلام کی تعلیمات کے مطابق قیامت کے روز اس وقت تک کسی بندے کے قدم نہیں ہل سکیں گے جب تک کہ اس سے 5چیزوں کا سوال نہ کر لیا جائے کہ عمر کہاں گزاری؟ جوانی کہاں صرف کی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور حاصل کیے گئے علم پر کتنا عمل کیا؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے نوجوان اپنی زندگی میں حقیقی مقاصد کو سمجھیں اور اپنی زندگی شوبز کی رنگینیوں کے پیچھے بھاگنے، فضول سرگرمیوں پر صرف کرنے یا مال و دولت کی تگ و دو میں ضائع نہ کریں اور زندگی کا کچھ نہ کچھ حصہ دینِ متین کیلئے بھی وقف کریں۔ 

Related Posts