گیسٹرو کے بعد ڈینگی پھیلنے کا خطرہ

تازہ ترین

تازہ ترین

گیسٹرو کے بعد ملک بھر میں موسلادھار بارشوں کی وجہ سے ڈینگی پھیلنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

راولپنڈی میں محکمہ صحت کے حکام نے ان ڈور اور آؤٹ ڈور سرویلنس مہم کے دوران 16,000 مختلف مقامات، 15,601 گھروں اور 1,000 دیگر مقامات پر ڈینگی مچھروں کی بڑی تعداد کا پتہ لگایا ہے۔

یہ واقعی ایک خطرناک انکشاف ہے جو مستقبل میں ایک مہلک وباء کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ مون سون سیزن کے دوران بڑے پیمانے پر ڈینگی مچھروں کی افزائش ہوتی ہے۔ کیونکہ بارشوں کے بعد کئی مقامات پر پانی کھڑا ہوجاتا ہے جہاں پر ڈینگی مچھر با آسانی پیدا ہوجاتے ہیں جو کہ صحت کیلئے خطرہ بن جاتے ہیں۔

ضلع میں انسداد ڈینگی مہم چلائی جارہی ہے لیکن بدقسمتی سے اس پر عمل درآمد کا فقدان ہے کیونکہ 99 مقامات کو چھوڑ دیا گیا اور 377 مقامات پر جعلی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔ حکام نے ایف آئی آر درج کرکے، عمارتوں کو سیل کرکے، چالان جاری کرکے اور ڈینگی ایس او پیز کو نافذ کرکے بروقت کارروائی کی ہے لیکن ڈینگی مچھروں کی تعداد میں اضافہ ہونے سے پہلے افزائش گاہوں کو تباہ کرنے کے لیے ایک منظم ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جانا چاہیئے۔

پاکستان کے زیادہ تر شہروں میں طوفانی بارشوں کی وجہ سے ڈینگی ایک صحت کے بڑے قومی بحران میں بدل سکتا ہے چنانچہ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حکومت کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نگرانی کی مہم چلانی چاہیئے تاکہ افزائش گاہوں کی نشاندہی ہوسکے اور انہیں تباہ کیا جاسکے۔ شہریوں کو ڈینگی کے ایس او پیز سے متعلق آگاہ کرنا چاہیئے اور متاثرہ علاقوں میں کھڑے پانی کی نکاسی کے لیے کام کرنا چاہیئے۔

حکام کو گیسٹرو کی وباء اور متوقع ڈینگی پھیلنے کی صورتحال کو سنبھالنا ہوگا نہیں تو ملک میں صحت کے حوالے سے صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔

Related Posts