بیمار سیاستدان

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں گرفتاری کے بعد سیاستدانوں کو ’’بیمار‘‘ ہوتے دیکھنا کوئی حیران کن بات نہیں۔ ملک میں ایسے سیاستدانوں کی لمبی فہرست ہے جو گرفتاری سے قبل بلکل صحت مند ہوتے ہیں لیکن گرفتار ہونے کے بعد کسی نہ کسی بڑی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

اِن دنوں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل جیل میں ہیں کیونکہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ایک ٹی وی شو کے دوران متنازع بیان دیا تھا۔

اُن کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے شہباز گل کے متنازع بیان کی مذمتیں دی جارہی ہیں، اکثریت یہی کہہ رہی ہے کہ جو انہوں نے کہا اُس سے مراد مسلح افواج قطعاََ نہیں تھے بلکہ سرکاری ملازمین کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے شہباز گل کے بیان کو ہفتے کے شروع میں غلط کہا تھا، انہوں نے اپنے چیف آف اسٹاف کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ جس سے ایسا لگتا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی رہنما کو اندازہ ہوگیاتھا کہ شہباز گل سے کیا غلطی ہوگئی ہے۔

اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شہباز گِل نے بیان اپنی مرضی سے دیا تھا یا پھر انہیں کسی نے یہ کہنے کیلئے کہا تھا؟

شہباز گل اس وقت پمز ہسپتال میں زیر علاج ہیں کیونکہ اسلام آباد کی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کے لیے پولیس کا ریمانڈ معطل کر دیا تھا۔ گل کے بارے میں اب تک کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں لیکن جب انھیں جمعہ کو عدالت میں پیش کیا گیا ، اُس وقت اُن کی جو حالت تھی وہ کوئی اور کہانی پیش کررہی ہے۔

جج نے دلائل سننے کے بعد اُن کا ریمانڈ معطل کرتے ہوئے شہباز گل کو دوبارہ پمز اسپتال منتقل کرنے اور ان کے طبی ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست دان حراست میں لیے جانے یا گرفتار ہونے کے بعد اچانک ’’بیمار‘‘ کیوں پڑ جاتے ہیں، ہمارے پاس نواز شریف سے لے کر شرجیل انعام میمن تک کی مثالیں موجود ہیں، جو جیل میں ٹھیک نہیں تھے، لیکن دونوں اب مکمل صحت مند نظر آتے ہیں۔

کسی دلیل یا بنیاد پر تشدد کی توثیق نہیں کی جا سکتی، لیکن سیاست دانوں کو اتنا بہادر ہونا چاہیے کہ وہ اپنے قول یا عمل کے نتائج کا بہادری سے سامنا کریں۔

Related Posts