انصاف میں دیر نا انصافی کے مترادف ہوا کرتی ہے اور پاکستان میں نظامِ انصاف پیاز کی پرتوں کی طرح تہہ در تہہ اختیارات اور عہدوں پر مشتمل ہونے کے باعث کچھ اسی قسم کا کردار ادا کررہا ہے جہاں غریبوں کو انصاف ملنا تو دور کی بات، خود ججز بھی ناانصافی پر شکوہ کناں نظر آتے ہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں 5 ججز کی تعیناتی کا معاملہ معزز ججز کے باہمی اختلافات کے باعث طول پکڑتا جارہا ہے۔ گزشتہ روز مزید 2 ججز نے چیف جسٹس کو خط تحریر کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
جسٹس سردار طارق مسعود سمیت جوڈیشل کمیشن کے 2 اراکین نے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کو سپریم کورٹ میں 5 ججز کی تعیناتی کی آئینی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سیٹ خالی ہونے پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس خودبخود شیڈول ہونا چاہئے تھا۔
جوڈیشل کمیشن اراکین کے خط میں یہ بھی کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن جیسے آئینی ادارے کا سیکریٹری پروفیشنل کو ہونا چاہئے۔ ججز کی تقرریوں میں 9 ماہ کی تاخیر ہوچکی ہے۔ جوڈیشل کمیشن اجلاس جلدی بلایا جائے۔
قبل ازیں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی چیف جسٹس عمر عطا بندیال پر زور دے چکے ہیں کہ فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلائیں اور خالی اسامیاں پر کی جائیں۔ مذکورہ اسامیاں جسٹس مشیر عالم، سابق چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس مقبول باقر، جسٹس مظہر عالم اور جسٹس سجاد علی شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہوئی تھیں۔
اگر ہم اس تمام تر مسئلے کا جائزہ لیں تو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال جوڈیشل کمیشن کے بھی سربراہ ہیں اور کمیشن ہی سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری کی منظوری دیا کرتا ہے تاہم کچھ ججز کی ریٹائرمنٹ کے بعد اسامیاں پر نہ کیے جانے پر جوڈیشل کمیشن اراکین کا احتجاج میڈیا تک جا پہنچنا تشویشناک ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر جوڈیشل کمیشن اراکین کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے ججز کی تعیناتی کے مسئلے پر اعتراض ہوا تو معزز ججز یہ معاملہ جوڈیشل کمیشن میں ہی چیف جسٹس کے روبرو اٹھاتے، تاہم بات چیف جسٹس تک پہنچی یا نہیں، اس سے قبل میڈیا تک جا پہنچی اور خبر بن گئی۔
سپریم کورٹ سمیت عدلیہ کے متعلق ایک بڑی مستند بات یہ کہی جاتی ہے کہ ججز نہیں بلکہ ان کے فیصلے بولتے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ عدلیہ کے اختلافات میڈیا اور پھر عوام تک پہنچنا اور اس پر عوام کی جانب سے مختلف تبصرے عدلیہ کے سابقہ زرّیں اصولوں اور عدالتی روایات کے خلاف ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت تمام جوڈیشل کمیشن اراکین سر جوڑ کر بیٹھیں اور نہ صرف خالی اسامیوں کا یہ معاملہ حل کریں بلکہ ججز کے باہمی اختلافات کو میڈیا تک پہنچنے سے بھی روکا جائے تاکہ یہ تاثر زور نہ پکڑ سکے کہ چیف جسٹس سمیت اہم ترین ججز باہمی اختلافات کا شکار ہوگئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں