پٹرول کی قیمت میں ‘الوداعی’ اضافہ

تازہ ترین

تازہ ترین

حکومت نے جاتے جاتے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے قوم کو گویا “الوداعی تحفہ” دے دیا ہے۔ یہ اضافہ یقینی طور پر پہلے سے معاشی مسائل کے بوجھ تلے دبے عوام کی مشکلات میں مزید بڑھائے گا۔

بظاہر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ موجودہ پی ڈی ایم حکومت کے مستعفی ہونے سے پہلے آخری پندرہ روزہ جائزہ ہے۔ مخلوط حکومت عوام پر پٹرول بم گرانے سے گریز کر سکتی تھی یا اسے عبوری سیٹ اپ تک کی گردن میں ڈال کر رخصت ہو سکتی تھی لیکن اس نے یہ ‘کارنامہ’ اپنے ہاتھوں سے انجام دینے کوترجیح دی۔ یہ واضح ہے کہ اتحادی حکومت نے گزشتہ 15 مہینوں کے دوران کھل کھلا کر اس انداز میں حکومت کی کہ اس کے مقابلے میں کوئی مضبوط اپوزیشن موجود نہیں ہے، چنانچہ اس چیز کا فائدہ اٹھا کر اتحادیوں نے اپنے مفاد میں دھڑلے سے خوب قوانین بھی پاس کیے۔

دوسری طرف اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو 22 فیصد پر برقرار رکھا ہے اور مہنگائی میں کمی آنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ آئی ایم ایف نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستان کے مرکزی بینک کو مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کی پیش گوئی کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ساتھ ہی عالمی ادارے نے افراط زر کو روکنے کے لیے مانیٹری پالیسی کو سخت کرنے کا مطالبہ کیا اور مرکزی بینک نے اس کی تعمیل کی۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود مہنگائی کی شرح 2025 تک 25 فیصد کے لگ بھگ رہے گی۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اس تازہ اضافے کی مسلم لیگ ن کو بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ یقینا انتخابات میں ہی آئے گا، جب عوام بیلٹ پیپر کا استعمال کریں گے۔ حکومت کو بھی ان فیصلوں کے نتائج کا ادراک ہے لیکن مسئلہ در اصل یہ ہے کہ حکومت کیلئے کوئی دوسرا آپشن رہا ہی نہیں ہے۔ متوقع طور پر اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کی مہم اس بار ترقی اور معیشت کی بحالی کے وعدوں سے چلائے جانے کا امکان ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ برسوں کی مالی بد انتظامی نے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، ساتھ ہی کووِڈ 19، توانائی بحران، خوراک کی قلت اور گزشتہ سال تباہ کن سیلابوں نے بھی معیشت کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان تمام اسباب کی بنا پر نوبت یہاں تک آ پہنچی کی پاکستان پر ڈیفالٹ کے بادل منڈلانے لگے۔

عام پاکستانی معاشی اور سیاسی بحران کے نتیجے میں بدترین مسائل سے دوچار ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے خوراک کی قیمتوں میں 40 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔ غربت کی شرح 37.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور روپیہ ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گیا ہے جس سے درآمدی مصنوعات مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام اگلے انتخابات میں کوئی بہتر انتخاب کر سکیں گے؟ فی الحال اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

Related Posts