رائوانور پر امریکی پابندی

تازہ ترین

تازہ ترین

سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس راؤ انوار نے اپنے اوپر لگائی گئی امریکی پابندی پر کہا ہے کہ یہ ‘مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے۔اپنے ایک ویڈیو پیغام میں راؤ انوار نے کہا کہ ‘امریکا نے اتنا بڑا الزام پاکستان اور مجھ پر لگا دیا کہ یہاں اس طرح کے لوگ رہتے اور غلط کام کرتے ہیں۔

راؤ انوار کاکہنا ہے کہ ‘میں پولیس فورسز کا ایک ایس ایس پی تھا اور ہم دہشت گردوں سے لڑتے ہیں،400، 500 کے قریب یا 440 دہشت گرد تھے تو ان میں سے ایک کی بھی میرے خلاف شکایت نہیں ہے کہ میں نے کسی کو بھی کسی لالچ یا جعلی انکاؤنٹر کے تحت مارا ہے۔میرے ہٹنے کے 2سال بعد بھی کوئی شکایت نہیں آئی۔

راؤ انوار کا کہنا تھا کہ ‘اگر ایسی چیز نہیں ہے تو امریکا کو معافی مانگنی پڑے گی نہیں تو اس کو ثابت کرنا پڑے گا، میں اپنے وکیل کے ذریعے امریکا کے خلاف واشنگٹن میں کیس کروں گا اور سفارتخانے کو بھی خط لکھا جائے گا۔

گزشتہ دنوں امریکا نے پاکستان میں جعلی پولیس مقابلوں کے لیے بدنام سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔امریکی محکمہ خزانہ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ راؤ انوارمتعدد جعلی پولیس انکاؤنٹرز کے ذمہ دار ہیں جن میں پولیس کے ہاتھوں کئی افراد ہلاک ہوئے۔امریکی بیان میں کہا گیا تھا کہ راؤ انوار 190 سے زائد پولیس انکاؤنٹرز میں ملوث رہے جن میں 400 سے زائد اموات ہوئیں، جن میں نقیب اللہ محسود کا قتل بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ نقیب اللہ محسود سمیت 444 افراد کے مبینہ طور پر قتل کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کرنے والے راؤ انوار رواں برس جنوری میں پولیس سروسز سے ریٹائر ہوگئے تھے۔

13 جنوری 2018 کو نقیب اللہ محسود سمیت 4 افراد کے قتل کا معاملہ سامنے آیا جنہیں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لیا تھا جبکہ رائوانوارکا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا تھا۔

سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے طور پر جانے جاتے تھے جبکہ ان پر ماورائے عدالت قتل کے الزامات لگتے رہے ہیں لیکن انہیں عدالتی معاملات اور ای سی ایل میں نام ڈالے جانے کا سامنا جنوری 2018 کے ابتدا کے بعد سے کرنا پڑا۔

کئی مرتبہ معطل کیے جانے کے باوجود بھی رائوانوار کوچند روز بعد ہی ان کے من پسند علاقے ضلع ملیر میں دوبارہ تعینات کر دیے جانا روایت کا ایک حصہ تھا، 35 سالہ کریئر میں انہیں ہر انکوائری سے کلین چٹ ہی ملی ہے۔

جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ بنا کسی خوف کراچی میں اغوا برائے تاوان سمیت دیگر مشکوک سرگر میوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ جرائم کو فروغ دینے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے تھے ۔

رائو انوار کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں کے خلاف عدالتی کارروائی کریں گے اورامریکا معافی مانگنا ہوگی تاہم رائو انوار کا اپنے اوپر پابندی کو کشمیر کے مسئلے سے جوڑنا سمجھ سے بالا تر ہے جبکہ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا اس حوالے سے کا کہنا ہے کہ راؤ انوار کا معاملہ عدالت میں ہے لہذا اس پر زیادہ بات نہیں کی جا سکتی۔ہمیں حیرت ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بھرپور خلاف ورزیوں پر کسی کو نامزد کرنے میں ناکام رہا۔

امریکا کے رائو انوار پر پابندی کے پیچھے واقعی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کارفرما ہے یا کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانا مقصود ہے ان سب سے قطع نظر رائو انوار پر لگنے والے الزامات کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں  ماورائے عدالت ہلاکتوں کے تدارک کے لئے ایک مستحکم اور مؤثر عدالتی نظام ضروری ہے ورنہ دوسری صورت میں یہ سماجی نا انصافی اور عوام میں عدم تحفظ کا ایک اہم کردار بن سکتا ہے۔

Related Posts