مشرق وسطی میں بڑی جنگ کے امکانات/ تیسری قسط

تازہ ترین

تازہ ترین

قبل اس کے کہ ہم اس سوال کا جائزہ لیں کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لئے ایران سے جنگ لڑنا ممکن بھی ہے یا نہیں ؟ بہتر ہوگا کہ پہلے ہم اس بات کا جائزہ لے لیں کہ ایران کی موجودہ اسٹینڈنگ کیسی ہے ؟ اسے سمجھنا اس لئے نہایت ضروری ہے کہ جب بھی دو ممالک کے مابین جنگ کی صورتحال پیش آئے تو دنیا بھر کے عام شہری ہی نہیں بلکہ انٹیلی جنشیا اور عالمی ادارے بھی اس بات کو خاص اہمیت دیتے ہیں کہ ان میں سے قانونی کے ساتھ ساتھ اخلاقی پوزیشن کس کی ٹھیک ہے ؟ اور وہ کون ہے جس کی قانونی و اخلاقی پوزیشن کمزور ہے۔ چنانچہ جنگ کی روک تھام کے لئے جب سفارتکاری شروع ہوتی ہے تو اس میں عالمی ضمیر کا جھکاؤ اسی ملک کی جانب ہوتا ہے جس کی قانونی و اخلاقی پوزیشن مضبوط ہو۔

مثلا اگر ہم غور کریں تو 7 اکتوبر 2023ء کو اسرائیل مظلوم تھا۔ اس کے خلاف جارحیت ہوئی تھی۔ اگر وہ غزہ پر چڑھ دوڑنے کی بجائے یہ موقف اختیار کر لیتا کہ اقوام متحدہ اسے انصاف دلائے تو اہل غزہ کو لینے کے دینے پڑ جاتے۔ مگر اسرائیل نے یہ راہ اختیار کرنے کی بجائے خود انتقام لینے کا جو فیصلہ کیا، اس کا نتیجہ یہ نکلا اس کی اس کی اخلاقی پوزیشن بھی ختم ہوکر رہ گئی، اور صورتحال یہ ہوگئی کہ وہ عالمی عدالت انصاف میں جنگی جرائم کے مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔جبکہ اسے آپ بونس ہی سمجھ لیجئے کہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ نہ صرف یہ کہ اس کے خلاف سڑکوں پر آئے بلکہ اس وقت بھی کسی نہ کسی شکل میں اہل غزہ کی حمایت میں متحرک ہیں۔ سو آیئے جائزہ لیتے ہیں کہ اسی حوالے سے ایران کی پوزیشن کیا ہے ؟

آپ نے ماہرین سے یہ جملہ بارہا سنا ہوگا”جنگوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں” عام طور پر باور کیا جاتا ہے کہ اس سے جنگی قوانین مراد ہوتے ہیں۔ بات اتنی سادہ نہیں۔ قوانین کی پابندی تو لازمی ہے ورنہ جنگی جرائم کے مقدمات قائم ہوجاتے ہیں۔ جنگوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، سے مراد کچھ اخلاقی اصول ہیں۔ حربی اخلاقیات کے ان اصولوں کے معاملے میں ایران اور اس کی پراکسیز نے پوری کامیابی سے تاحال اسرائیل پر اپنی برتری قائم رکھی ہوئی ہے۔ ان اصولوں پر عملدرآمد عالمی سطح پر آپ کا یہ تاثر قائم کرتے ہیں کہ آپ خون کے پیاسے کوئی ایسے درندے نہیں، جسے سب کچھ تہس نہس کرنے سے غرض ہے اور جس کا واحد علاج یہی ہے کہ اسے گولی مار دی جائے۔ بلکہ آپ میدان جنگ میں اخلاقیات کے پابندایک اصول پسند ملک ہیں۔ آیئے کچھ موٹی مثالوں کی صورت دیکھتے ہیں کہ ایران اور اس کی پراکسیز نے یہ برتری کس طرح برقرار رکھی ہوئی ہے۔

پہلی چیز یہی دیکھ لیجئے کہ اسرائیل نے غزہ کی پوری جنگی صورتحال میں ایران کو جتنی بار بھی للکارا، ایران نے اس کا جواب جوابی للکار کی صورت نہیں دیا۔بلکہ تحمل کا مظاہرہ کرکے ایک ذمہ دار ملک ہونے کا تاثر قائم کیا۔ جو اس تاثر سے بالکل مختلف ہے جو مغربی میڈیا نے اس سے متعلق پھیلا رکھا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ برس جب اسرائیل پر حملے کا واقعہ پیش آیا تھا تو صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ عالمی میڈیا نے بھی اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کرنے کی سرتوڑ کوشش کی تھی۔ مگر ایران اس موقع پر بھی طیش میں نہ آیا تھا۔ بلکہ پورے تحمل کے ساتھ الزامات کی تردید کی تھی۔ جو آگے چل کر خود ہی غلط بھی ثابت ہوگئے۔

دوسری چیز یہ کہ جب اسرائیل نے شام میں اس کے قونصلیٹ کو نشانہ بنایا اور وہاں جانی نقصان کیا تو فوری طور پر بیک ڈور سے امریکہ متحرک ہوا اور اس نے بالواسطہ طور پر ایران سے روابطہ قائم کرکے معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ حربی اصول یہ ہے کہ جب کوئی بڑا ملک سفارتکاری کے راستے آپ سے رابطہ کرتا ہے، اور تحمل کے مظاہرے کی بات کرکے کوئی ایسی درخواست کرتا ہے کہ آپ جوابی تھپڑ مار لیجئے لیکن جانی نقصان نہ کیجئے تو سفارتی روایت یہ ہے کہ آپ درخواست رد نہیں کرتے۔ یہ بالکل اسی طرح کا معاملہ ہوتا ہے جو ہم اپنے نجی تنازعات میں بھی دیکھتے ہیں کہ جب کوئی بڑا بیچ میں پڑ جائے تو اس کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ شام والے حملے کے ردعمل میں ایران نے خود کو صرف ڈٹرنس قائم کرنے کی حکمت عملی تک محدود رکھ کر امریکہ کی جو درخواست قبول کی تھی، اس سے عالمی سطح پر اس کے ذمہ دار ملک ہونے کا تاثر مزید پختہ ہوا۔اور ساتھ ہی امریکہ جیسے مخالف ملک کو اپنا احسان مند بھی کرلیا۔

اب ذرا لبنان والی پراکسی کا معاملہ بھی دیکھ لیجئے۔ جن دنوں تہران میں بڑا قتل ہوا تھا عین انہی دنوں اسرائیل نے بیروت میں حملہ کرکے اس پراکسی کا بھی ایک اہم شخص مارا تھا۔ اب یہ نکتہ ذہن میں رکھئے کہ اسرائیل نے دو کام کئے۔ پہلا یہ کہ اس پراکسی کا اہم شخص مارا۔ دوسرا یہ کہ دارالحکومت بیروت کی حرمت پامال کی۔ اس کا حساب برابر کرنے کے لئے اس پراکسی نے اسرائیل کا ایک کرنل تو دارالحکومت سے دور مار لیا مگر دارلحکومت کی پامالی والا اکاؤنٹ ابھی باقی تھا۔ چنانچہ اس کے لئے اس پراکسی نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں واقع موساد کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا ۔مگر حملے کی شدت اتنی رکھی کہ وہاں کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ بات صرف دنیا کی اس بڑی انٹیلی جنس ایجنسی کی ناک خاک آلود کرنے تک رہے۔ اگر یہاں بھی جانی نقصان ہوجاتا تو کھیل کے اصولوں کے مطابق یہ زیادتی ہوتی۔ اور اس سے اسرائیل کو موقع مل جاتا کہ اب وہ اس زیادتی والا حساب برابر کرے۔

یوں اس پراکسی نے حربی شعور رکھنے والے عالمی ماہرین سے ڈبل داد وصول کی۔ پہلی داد اس بات پر کہ اس نے ثابت کیا کہ یہ اپنے اہم بندے کے بدلے دشمن کا اہم بندہ مارنے کی نہ صرف صلاحیت رکھتی ہے بلکہ اس کے لئے درکار بروقت انٹیلی جنس بھی اس کے پاس تھی۔ اور دوسری داد اس چیز پر کہ موساد ہیڈکوارٹر کو نشانہ بناتے وقت اس نے بس دارالحکومت تل ابیب کی حرمت پامال کرنے تک خود کو محدود رکھا۔ وہاں جانی نقصان نہ کیا۔ یہاں یہ وضاحت کرتے چلیں کہ تل ابیب میں موساد ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حملے کا عالمی میڈیا میں مکمل بلیک آؤٹ رکھا گیا، سو ممکن ہے آپ اس سے واقف نہ ہوں۔ یہ حملہ گزشتہ ہفتے ہی ہوا ہے۔

اس کھیل کو آپ پاکستان کی ہی ایک مثال سے مزید آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یاد ہے 2019ء میں انڈیا نے بالاکوٹ میں حملہ کیا تھا ؟ پاکستان نے اس حملے کے نقصانات چند درخت اور ایک کوا بتایا تھا۔ اور اعلان کیا تھا کہ حساب برابر کیا جائے گا۔ سو پاکستان نے اپنے جوابی حملے میں زمین پر کوئی جانی نقصان اسی لئے نہ کیا تھا کہ خود اس کا بھی جانی نقصان کوئی نہ ہوا تھا۔ ابھینندن وغیرہ تو پاکستان کا ہدف نہ تھے۔ وہ تو دفاع کے چکر میں اپنی اور اپنے ملک کی ناک کٹوا بیٹھا تھا۔ سو ایران اور اس کی پراکسیز بھی انہی عالگیر اصولوں کے پابند نظر آ رہے ہیں۔

امید ہے آپ اب تک یہ بھی سمجھ گئے ہوں گے تہران والا قتل بھی حساب چکائے بغیر جانے والا نہیں۔ اور کھیل کے اصولوں کے مطابق یہ اس قدر یقینی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی بھی مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ ایران کی جانب سے جواب آنا ہے۔ اس خوش فہمی میں کوئی نہ رہے کہ ایران نے جواب نہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ جواب اتنا یقینی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو تین ہفتوں سے زمین دوز بنکر میں روپوش ہے۔ اور اس دوران صرف ایک بار کچھ دیر کے لئے مظر عام پر آیا ہے۔

عین اس وقت جب یورپی یونین نے عالمی میڈیا کو آف دی ریکارڈ بتایا کہ سفارتی سطح پر ان کے رابطوں کے دوران ایران نے نہ صرف یہ کہ جوابی حملہ نہ کرنے سے صاف صاف انکار کردیا ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ حملہ شدید اور مہلک ہوگا۔ تو ایران نے ایک اور اخلاقی کارڈ کھیل دیا۔ اور یہ کارڈ بے پناہ اہم ہے۔ ایران کا یہ اخلاقی کارڈ یہ ہے کہ وہ انتقامی حملے کا ارادہ صرف اس صورت ترک کرسکتا ہے کہ اسرائیل جنگ بند کرکے غزہ سے مکمل انخلاء کرجائے۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس ضمن میں وہ جنگ بندی کا صرف وہی معاہدہ قبول کرے گا جو غزہ کے متولی کو قبول ہوگا۔ اگر کوئی ایسی جنگ بندی کی گئی جسے غزہ کے متولی کی تائید حاصل نہ ہوئی تو وہ ایران کو قبول نہ ہوگی۔

ذرا اس کارڈ کے ممکنہ نتائج دیکھئے۔ پہلا ممکنہ نتیجہ یہ ہے کہ بینجمن نیتن یاہو جس جنگ بندی سے فرار کی راہ پر ہے اس کے لئے اس پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ہی شدید دباؤ آچکا ہوگا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ کارڈ کھیل کر ایران نے جنگ بندی کی جوبائیڈن کی اس کوشش کو نیا سرا فراہم کردیا ہے جسے نیتن یاہو نے تہران حملے کے ذریعے فیل کردیا تھا۔دوسرا ممکنہ نتیجہ یہ ہے کہ جنگ بندی کے نتیجے میں اسرائیل کی عبرتناک شکست پر مہر تصدیق ثابت ہوسکتی ہے اور اسرائیل میں وہ حساب کتاب شروع ہوسکتا ہے جس کا حاصل جواب کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنہ ہوگا۔ اور ظاہر ہے اس کے پھر سیاسی نتائج بھی ہوں گے۔ تیسرا ممکنہ نتیجہ یہ کہ غزہ میں امن لوٹ سکتا ہے اور لوگ زندگی کا از سر نو آغاز کر سکتے ہیں۔ چوتھا ممکنہ کیا یقینی نتیجہ یہ ہے کہ اس تاثر کو اس کارڈ سے مزید تقویت حاصل ہوئی ہے کہ ایران جنگی جنون میں مبتلا ملک نہیں بلکہ اس کی ترجیحات میں امن ہی سرفہرست ہے۔ اب یہاں ملین ڈالرز کا سوال یہ آجاتا ہے کہ کیا ایران کا یہ کارڈ سرخرو ہوگا ؟ کیا جنگ بندی سے فرار کی نیتن یاہو حکمت عملی فیل ہوجائے گی ؟ اس کا یقینی جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں۔
(جاری ہے)

Related Posts