وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت 13 ماہ کے طویل وقفے کے بعد مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایل پی جی کی پیداوار پر رائلٹی ، چیئرمین واپڈا اور ممبرز کی تقرری سے متعلق ڈرافٹ ،پٹرولیم پالیسی اور حویلی شاہ بہادراوربلوکی پاورپلانٹس کی نجکاری کی منظوری دی گئی۔وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ کی جانب سے وفاق پر واجب الادا فنڈز کے اجرا کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔
13 ماہ کے طویل عرصے کے بعد بھی مشترکہ مفادات کونسل میں وفاق میں حزب اختلاف کی جماعت پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کیساتھ جانبدارانہ رویہ محسوس کیا گیا جبکہ وفاق کی جانب سے کراچی کیلئے کسی قسم کے مالی پیکیج کا اعلان بھی نہیں کیا گیا ۔ عام انتخابات میں کراچی میں اہم کامیابی کے باوجود پی ٹی آئی حکومت تاحال کراچی کیلئے بڑے منصوبے شروع کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے جبکہ پہلے سے جاری منصوبوں پر بھی وفاق کی جانب سے کوئی خاطر خواہ پیشرفت نظرنہیں آرہی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں ان کے دورہ کراچی میں ملاقات نہ کرنے پر شکوہ کیا تاہم وزیراعظم نے جمعہ کو دورہ کراچی میں اس ملاقات کاعندیہ دیا تاہم 27 دسمبر کو وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کی تقریب میں شرکت کیلئے راولپنڈی میں ہونگے۔
وزیراعظم عمران خان سندھ حکومت کی کارکردگی سے ہمیشہ نالاں رہے ہیں جبکہ ان کا ماننا ہے کہ سندھ میں بڑے پیمانی پر بدعنوانیاں ہورہی ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان سندھ حکومت کے ساتھ ایک دوری بنائے ہوئے ہیں تاہم یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ بطور وزیراعظم سیاسی تنازعات کو ایک طرف رکھ کر عمران خان صوبے کی بہتری کیلئے آگے بڑھ کر کام کریں۔
اجلاس میں فنڈز کے حوالے سے صوبوں کی جانب سے بڑا اعتراض سامنے آیا کہ مرکز کی جانب سے ان کو فنڈز کی ادائیگیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں وزیراعظم نے تمام صوبوں کو فنڈز کے اجرامیں حائل پیچیدگیوں کو دور کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے تمام صوبوں کو مناسب حصہ دینے کی یقین دہانی بھی کروائی۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد تاحال فنڈز جمع کرنے کا اختیارصوبوں کو منتقل نہیں ہوسکا، سندھ، بلوچستان اور پنجاب کاکہنا ہے کہ وفاق سے فنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مالی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کے حوالے سے بھی معاملات پر اجلاس میں غور کیا گیا۔
وفاق کی جانب سے صوبوں کوفنڈز کے اجرا میں تاخیر کی وجہ سے صوبوں کے معاملات خوش اسلوبی سے چلانے میں مشکلات کو اچنبھے کی بات نہیں ہے، ملک کی ترقی وامور مملکت کیلئے وفاق کو وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا چاہیے اور مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس تواتر کیساتھ ہونے چاہئیں تاکہ تصفیہ طلب معاملات کو بگڑنے سے پہلے ہی حل کرلیا جائے۔